ٹرانسپیرنسی رپورٹ، پاکستان کا انفرااسٹرکچر سیکٹر بدعنوانی اور گورننس کے مسائل کا شکار

اسلام آباد :…ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا انفرااسٹرکچر سیکٹر، بظاہر مضبوط ضابطہ جاتی فریم ورک کے باوجود، بدعنوانی اور گورننس کی ناکامیوں کے بلند خطرات سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قواعد و ضوابط پر کمزور عملدرآمد، سیاسی بنیادوں پر منصوبوں کا انتخاب، مالی دباؤ اور غیر مسابقتی ٹھیکوں پر بڑھتا انحصار عوامی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور تکمیل میں شفافیت اور کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔’’انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ (آئی سی آر اے ٹی): پاکستان میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں گورننس کے خلا کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے اس رپورٹ میں پاکستان کو مجموعی طور پر 10؍ میں سے 6.34؍ کا اسکور دیا گیا ہے، جس کے باعث اسے ’’اعلیٰ آئی سی آر اے ٹی خطرہ‘‘ کی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے۔ یہ پاکستان میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل آسٹریلیا کے تیار کردہ اس ٹُول کا پہلا اطلاق ہے۔ ۔ رپورٹ میں منصوبوں کے انتخاب اور عوامی سرمایہ کاری کے انتظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے رپورٹ میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ الیکشن کا وقت قریب آتے ہی ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جائزے میں سرکاری خریداری کے نظام پر بھی سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ ا۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے پی پی آر اے رول 42(f) کے تحت بڑے منصوبوں کے ٹھیکے براہِ راست سرکاری اداروں کو دینے کا رجحان بڑھا دیا ہے۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر گورننس کا بنیادی مسئلہ ضابطہ جاتی ڈیزائن نہیں بلکہ قواعد و فریم ورک میں موجود وعدوں اور ان کے مؤثر نفاذ کے درمیان ساختی خلا ہے۔ اہم سفارشات میں سرکاری اداروں کو مکمل طور پر پی پی آر اے قواعد کے دائرے میں لانا، رول 42(f) میں اصلاحات کر کے براہِ راست ٹھیکوں کو محدود کرنا، این ایچ اے میں اعلیٰ ترین عہدوں (لیڈرشپ) پر میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں، اور منصوبوں سے متعلق دستاویزات جیسے فزیبلٹی اسٹڈیز، معاہدوں میں ترامیم اور لاگت میں تبدیلیوں کی پیشگی تشہیر شامل ہیں۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز کے مطابق انفراسٹرکچر گورننس میں پائیدار بہتری کیلئے منصوبے کے پورے دورانیے اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *