امریکا نے آج صبح سویرے ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی طیاروں نے داغے گئے 4 ایرانی ڈرونز کے جواب میں کارروائی کی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے تمام ایرانی ڈرونز کو مار گرایا۔ امریکا نے کارروائی اپنے دفاع میں کی۔
ادھر ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پروارننگ فائر کیے گئے تھے۔
کویت نے کہا کہ فضائی دفاع نے میزائل اور ڈرون حملوں کو روک دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کو ایران معاملے پر زبردست کامیابی مل رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بحران حل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثے بحال کر کے ایران امریکا مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کر سکتے ہیں۔ایران سے ممکنہ جوہری معاہدے کی تیاری، ٹرمپ کے ایلچیوں کی خفیہ مشاورت، وٹکوف اور کشنر کا ٹینیسی جوہری مرکز کا دورہ، ایران جنگ خاتمے اور جوہری مذاکرات کیلئے مفاہمتی یادداشت زیر غور، امریکا نے 100 ماہرین کی ٹیم تیار کر لی، یورینیم ذخائر اور افزودگی محدود کرنے کے منصوبے پر کام کریگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔
این بی سی نیوز کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس بالآخر معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران وہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا۔
ایک سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے حل میں وقت لگتا ہے، یہ کام فوری نہیں ہوتے۔















Post your comments