امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ایران سے ممکنہ ڈیل تجاویز پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
نیوز ویب سائٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے بتایا ہے کہ ثالث اظہار ارادہ کے خط پر کام کررہے ہیں جس پر امریکا اور ایران دستخط کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد 30 دن کے مذاکرات شروع ہوں گے، ایران کے نیوکلییئر پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے پر بات ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو منگل کی رات ہوئی تھی، ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی وزیراعظم آگ بگولہ ہوگئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے دفتر اور وائٹ ہاؤس کا رپورٹ پر تبصرے سے گریزکیا ہے۔حج وارننگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔ حج کے دوران حملے سے ممکنہ بڑے انسانی بحران کا خدشہ، خلیجی ممالک کا امریکہ کو فوری سفارتی و سیکورٹی انتباہ، لاکھوں عازمین کے مختلف ممالک میں پھنسنے سے سنگین صورتحال پیدا، امریکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا، خلیجی حکام نے بتادیا۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران پر مجوزہ حملہ اس وقت مؤخر کر دیا جب خلیجی اتحادیوں اور امریکی حکام نے خبردار کیا کہ حج کے دوران جنگ دوبارہ شروع کرنے سے خطے میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کو موقع دینے پر ٹرمپ اور ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کو سراہتے ہیں ‘ ایران اس سے فائدہ اٹھائے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہے کہ مذاکرات فیصلہ کن موڑمیں داخل ہو چکے ہیں‘اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں‘ یا تو ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے یا پھر ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو قدرے ناگوارہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی‘ صورتحال کسی بھی سمت جا سکتی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ فوج ہائی الرٹ کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے اور کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب یرانی پارلیمنٹ کےا سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ نئی جنگ شروع کرنا چاہتاہے ‘اگر حالات بگڑے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گےجبکہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات خطے سے باہرتک جائیں گے ‘وزیرخارجہ عباس عراقچی نے متنبہ کیا ہے کہ میدان جنگ میں واپسی پر امریکا کو کئی بڑے سرپرائز ملیں گے جبکہ صدرمسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہماری طرف سے تمام راستے کھلے ہیں ‘دباؤ اور طاقت کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا محض ایک سراب ہے ‘ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے ایک نئی تجویز موصول ہوئی ہے اور وہ فی الحال اس کا جائزہ لے رہا ہے‘فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور پاکستان کے وزیرداخلہ اس عمل میں سہولت کاری کے لیے ایران میں موجود ہیں۔چین کے صدر شی جن پنگ نےبیجنگ میں روسی ہم منصب ولادیمیرپیوٹن سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا ایران جنگ کو روکنا ضروری ہے ‘مزید لڑائی غیردانشمندانہ ہوگی ‘ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اہم موڑپر ہے ‘تنازع کا دوبارہ آغاز ناقابل قبول ہوگا۔ ایران نے نئے سمندری زون کے ساتھ آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کر دیا‘ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے ہرمز میں ایک کنٹرولڈ میری ٹائم زون (محفوظ سمندری زون) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب بحری جہازوں کو وہاں سے گزرنے سے پہلے اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں اتھارٹی نے بتایا کہ یہ زون آبنائے کے مشرقی دہانے پر ایران کے علاقے کوہِ مبارک سے لے کر متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے جنوب تک اور مغربی دہانے پر جزیرہ قشم کے سرے سے لے کر ام القوین تک پھیلا ہوا ہے۔اس علاقے سے کسی بھی قسم کے گزرنے کے لیے اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی اور اس سے اجازت نامہ لینا ضروری ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ 42گھنٹے میں میں اس کی نگرانی میں26 بحری جہاز باحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھاکہ ان کا ملک صدرٹرمپ کے فیصلے کو سراہتا ہے کہ انہوںنے جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا‘ایسا معاہدہ جوآبنائے ہرمز میں باحفاظت سمندری نقل و حمل کی آزادی کو 28 فروری 2026 سے قبل کی حالت میں بحال کرنے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مؤثر ہو۔ سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔















Post your comments