چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کو تمام یک طرفہ غنڈہ گردی اور تاریخ کو پلٹانے والے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے۔
بیجنگ میں چین اور روس کے صدور نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے اور اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ روس اور چین کے تعلقات احترام، برابری اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں اور اب یہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہر سطح پر اسٹریٹجک رابطے اور تبادلے جاری رکھیں گے جبکہ توانائی وسائل، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی جدت میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
شی جن پنگ نے زور دیا کہ چین کے 15 ویں سالانہ ترقیاتی منصوبے کو روسی ترقیاتی حکمتِ عملی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔
چینی صدر نے کہا کہ روس اور چین کو یک طرفہ غنڈہ گردی اور تاریخ مسخ کرنے کی کوششوں کی مشترکہ مخالفت کرنی چاہیے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر کی گرم جوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح پر پہنچ چکے ہیں اور مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات دوستانہ، تعمیری اور نتیجہ خیز رہے۔
پیوٹن کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تقریباً تمام تجارتی لین دین روسی اور چینی کرنسی میں ہو رہا ہے جبکہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
ولادیمیر پیوٹن نے قابلِ تجدید توانائی کے مشترکہ منصوبوں میں وسیع امکانات کا بھی ذکر کیا۔
روسی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس اور چین آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند ہیں اور عالمی استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، لڑائی کو روکنا ضروری ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان گریٹ ہال آف پیپل میں ملاقات ہوئی۔
روسی صدر پیوٹن سے گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے خاتمے سے توانائی سپلائی کے استحکام میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے عالمی تجارتی نظام میں رکاوٹیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔
شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور روس کو منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے، دونوں ممالک کے تعلقات کی کامیابی کی وجہ سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس اور چین کو ایک دوسرے کی ترقی کی بحالی میں مدد کرنی چاہیے۔
روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح کے ہیں: پیوٹن
ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح کے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مثبت رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روسی اور چینی تعلقات عالمی استحکام میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
روسی صدر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے درمیان روس ایک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ ہے۔
چینی صدر کو اگلے سال روس کے دورے کی دعوت
ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر کو اگلے سال روس کے دورے کی دعوت بھی دے دی۔















Post your comments