لاہور: انمول عرف پنکی اور سابق شوہر سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

لاہور پولیس نے منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر ناصر سے متعلق تحقیقات میں اہم انکشافات کر دیے۔

پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کا سابق شوہر ناصر بھائیوں سمیت اس کاروبار میں ملوث تھا، ناصر اپنے 2 بھائیوں کے ہمراہ لاہور آیا تھا، جہاں تینوں نے ابتداء میں گیسٹ ہاؤسز اور شراب کے کاروبار سے کام شروع کیا، بعد ازاں ناصر نے اپنے بھائیوں، ایک دوست اور بہنوئی کے ساتھ مل کر کوکین کا کاروبار شروع کیا۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ ناصر نے ہی پنکی کو کوکین بنانے کا ماہر بنایا، جس کے بعد دونوں میاں بیوی لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں کوکین سپلائی کرتے رہے۔

پولیس کے مطابق بعد میں ناصر اپنے بھائیوں سمیت یہ کاروبار کراچی منتقل کر گیا، جہاں نیٹ ورک کو مزید وسعت دی گئی، ملزمہ پنکی نے 2021ء میں رانا اکرم کے کہنے پر ناصر سے طلاق لی۔

منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر رانا اکرم کی ٹریول ہسٹری سامنے آگئی، جس میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے دوروں کی تفصیلات شامل ہیں۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی صرف ایک مرتبہ پاکستان سے باہر گئی، وہ 25 دسمبر 2018ء کو کراچی سے باکو روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 3 ماہ بعد یکم اپریل 2019ء کو واپس پاکستان پہنچی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنکی کا دوسرا شوہر رانا اکرم 2 مرتبہ باکو گیا، پہلی بار وہ 12 اکتوبر 2025ء کو باکو روانہ ہوا اور 19 اکتوبر 2025ء کو واپس آیا۔

ایئرپورٹ ریکارڈ کے مطابق رانا اکرم دوسری مرتبہ 27 دسمبر 2025ء کو باکو گیا اور 6 جنوری 2026ء کو لاہور واپس پہنچا۔

پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رانا اکرم نے ہی پہلی مرتبہ انمول عرف پنکی اور اس کی ساتھی کرن کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق رانا اکرم نے مبینہ طور پر 2 گاڑیاں اور 5 کروڑ روپے لے کر دونوں خواتین کو رہا کیا تھا۔

منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی نے کراچی کی مقامی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس تشدد کا الزام عائد کر دیا۔

بغدادی تھانے میں درج قتل کیس میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو کراچی جوڈیشل کمپلیکس میں قائم جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمہ انمول عرف پنکی کی پولیس تشدد کی شکایت پر عدالت نے استفسار کیا کہ  آپ پر اگر تشدد ہوا ہے تو اس سے قبل عدالت میں شکایت کی؟ کیا وکیل نے ملزمہ کا میڈیکل کرانے کی درخواست کی ہے؟

پنکی اور سابق شوہر کی ٹریول ہسٹری سامنے آگئی، باکو کے متعدد دوروں کا انکشاف

انمول عرف پنکی نے کہا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر ایک نہیں کئی تفتیشی افسران نے تشدد کیا ہے، میرا 100 دن کا ریمانڈ لینا ہے تو لے لیں۔

کراچی کی مقامی عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت سے قبل تفتیشی افسر نے کمرہ عدالت میں پنکی کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ملزمہ پولیس ریمانڈ میں ہے، باہر نکل کر جس سے بات کرنا ہے کرے، ابھی آپ اپنے وکیل سے بات کریں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صرف اس کیس سے منسلک وکلاء ہی کمرہ عدالت میں رکیں باقی سب باہر جائیں۔

سماعت شروع ہوتے ہی سادہ لباس اہلکاروں نے صحافیوں سے تلخ کلامی کی، ان کو دھکے دیے، کمرہ عدالت میں شور شرابا مچ گیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *