ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی چیف علی لاریجانی سمیت اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے قتل سے ایرانی حکومت کو دھچکا نہیں لگا۔
عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ حکام کا قتل ایران کی حکومت کے لیے کسی دھچکے کا باعث نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اب تک یہ بات کیوں نہیں سمجھی کہ ایران ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کا حامل ہے، جس میں مستحکم سیاسی، معاشی اور سماجی ادارے موجود ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ کسی ایک فرد کی موجودگی یا عدم موجودگی اس ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یقیناً افراد بااثر ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنا کردار ادا کرتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایران کا سیاسی نظام ایک نہایت مضبوط ڈھانچہ ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو شہید کر دیا تھا۔
67 برس کے علی لاریجانی انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے انتقامی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی لاریجانی اور دیگر شہداء کا خون ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کے قتل کی تصدیق کے بعد اپنا ردِعمل جاری کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں علی لاریجانی کو ایک نمایاں شخصیت، مفکر اور انقلابی سیاست دان قرار دیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عظیم شہید کا خون، دیگر عزیز شہداء کی طرح عزت، طاقت اور قومی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔
جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اس عظیم شہید اور دیگر شہداء کے خون کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو شہید کر دیا تھا۔
67 برس کے علی لاریجانی انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے۔
علی لاریجانی ایران کے طاقتور مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ متعدد بار صدارتی انتخابات میں بھی اہم امیدوار رہے۔
انہوں نے بطور اسپیکر پارلیمنٹ 12 سال تک مجلسِ شوریٰ کی قیادت کی، وہ ایران کے چیف مذاکرات کار برائے جوہری پروگرام بھی رہ چکے ہیں۔











Post your comments