امریکی صدر ٹرمپ نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ظاہر کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ظاہر کردیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر امریکا کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں، شاید کسی موقع پر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ہوجائے گی، لیکن اس کا انحصار صورتحال پر ہوگا۔

ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے غصے میں اور سخت لہجے میں گفتگو کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ وہ نیتن یاہو کی لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی سے پریشان تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک فون کال کے دوران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر انہیں پاگل اور ناشکرا قرار دیا۔

ٹرمپ کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے، ایران کا تنازع ختم ہوگا تو تیل کی قیمتیں کم ہوں گی۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں، ایران کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اس کے نتائج بہت اچھے ہوں گے۔

امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بکر نے استفسار کیا ہے کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟

سینیٹر کوری بکر نے سینیٹ میں پیشی کے موقع پر وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سخت سوالات کیے۔

انہوں نے کہا کہ کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا، ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جارہی، ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات ’انتہائی ٹیکنیکل‘ معاملہ ہے، جو پانچ دن میں طے نہیں ہوسکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس پر ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے، ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلوؤں پر بات کرنے کو راضی ہو گیا ہے پہلے ان پر انکاری تھا۔

ایرانی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اتفاق ہوگیا تو امریکا اور ایران کے درمیان ایم او یو 4 مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق ایران کی امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

خبر ایجنسی نے ایرانی مذاکراتی وفد کی میڈیا ٹیم کے رکن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس میں لبنان کو نظراندار کیا جائے۔

خبر ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکا کے نئے مسودے پر ایران کا جواب ابھی نہیں بھیجا گیا۔ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ناکامی کی وجہ ایران کا جوہری مذاکرات میں شمولیت سے انکار تھا۔

دوسری جانب اپنے ایک بیان میں اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایرانی قوم نے ثابت کیا کہ ایران کو دھمکیاں دینے کا دور ختم ہوچکا۔

باقر قالیباف کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور عبرتناک ردعمل دیں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *