پاکستان اور قطر نے بطور ثالث امریکا اور ایران کے سوئس مذاکرات کو ناکامی سے کیسے بچایا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
جیو نیوز ثالثوں کی جانب سے امریکا اور ایران کے سوئس مذاکرات ناکامی سے بچنے کی تفصیل سامنے لے آیا۔
ذرائع کے مطابق ایران امریکا مذکرات صدرٹرمپ کے بیان سے تقریباً سبوتاژ ہوگئے تھے، ٹرمپ کے بیان سے چیف ایرانی مذاکراتی کار باقر قالیباف کا رویہ بدل گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا بیان قالیباف کو اس قدر ناگوار گزرا تھا کہ مذاکرات جاری رہنا ناممکن ہوگیا تھا، ثالثوں پاکستان اور قطر کی سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی ٹیبل پر موجودگی کام کرگئی۔
ذرائع کے مطابق ماحول میں تلخی آئی تو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی وفد کو قائل کیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد اس قدر ناراض تھا کہ مذاکرات کا فارمیٹ بدلنا پڑا، ایک جانب پیشرفت سے دوسرے معاملے پر پیشرفت ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کو رعایت مفاہمت کی یادداشت کے دورانیے میں پہلی جانچ ہے، دیکھنا ہوگا کہ امریکی محکمہ خزانہ آج شام کیا اقدامات کرتا ہے، عباس عراقچی کا بیان علامت ہے معاملہ بلآخر خوش اسلوبی سے انجام پایا۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ ایران، امریکا کے مفاہمتی یادداشت کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور مذاکرات کا آغاز ہے۔
دوحہ میں عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مفاہمت کی یادداشت سے ہم جنگ بندی پر پہنچ گئے ہیں، مفاہمتی یادداشت سیاسی پہلوؤں کے علاوہ تکنیکی عناصر پر مشتمل ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان جو قطر کے وزیر خارجہ بھی ہیں انھوں نے کہا کہ جوہری مسائل، سلامتی اور آبنائے ہرمز جیسے علاقائی مسائل بھی شامل ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ پاکستان کے تعاون سے مذاکراتی عمل کو تحفظ فراہم کرنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کیلئے فریم ورک قائم کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق امریکا درست کردار ادا کر رہا ہے، لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا جاری قبضہ ختم ہونا چاہیے۔
قطری وزیر اعظم نے کہا کہ لبنان کی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے یہ پہلا موقع نہیں جب نیتن یاہو نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی ہو، خطےمیں لبنان یا کہیں اور کشیدگی ہو مذاکرات کو متاثر کرے گی۔
انھوں نے کہا جنگ کے دوران ایران نے ہمارے اور ہمارے برادر ممالک کے ساتھ جو کیا وہ ناقابل قبول تھا، مسائل کے حل کیلیے ایران کیساتھ بات چیت کیلیے مشترکہ وژن کے حصول کیلیے خلیجی اتفاق رائے ہے، ایران کو خلیجی ریاستوں کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اعتماد کے ساتھ تعاون کرناچاہیے۔














Post your comments