بجٹ 27-2026ء سے متعلق بجٹ تجاویز پر حکومت اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں اختلافات برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی پی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے، اب معاملہ سینئر قیادت کی سطح پر زیر بحث آئے گا۔
ذرائع کے مطابق پی پی اور حکومت کی سینئر قیادت کے درمیان اگلے ایک سے دو روز میں ملاقات ہوگی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس معاملے پر بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے ملیں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے 10 جون کو بجٹ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پی پی سے مذاکرات کا نتیجہ چاہیے جو بھی ہو۔
مذاکرات میں شریک ایک رکن کا موقف ہے کہ ہر سال بجٹ سے پہلے ترقیاتی منصوبوں، ٹیكسیشن اور دوسرے اقدامات پر ایسی میٹنگ ہوتی ہیں جبکہ دوسرے رکن کا موقف ہے کہ یہ ابتدائی میٹنگ ہیں اس لیے نہ كامیابی ہوئی نہ ناكامی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی موجود تھے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر اور شیری رحمان موجود تھیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بجٹ اجلاس سے قبل کوئی اہم قانون سازی نہیں ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کونسل کا اجلاس بھی بلاول بھٹو زرداری کی اسلام آباد واپسی کے بعد ہوگا۔ اقتصادی رابطہ کونسل کے بعد بجٹ اجلاس کا انعقاد ممکن ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے آخری دن 5 جون تک مہم میں حصہ لیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کی اسلام آباد واپسی کے بعد مزید گفتگو بھی ہوگی۔
حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بجٹ کے سلسلے میں بھی پیپلز پارٹی کو مشاورت میں شامل کیا ہوا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے آج کی ملاقات بہت مثبت رہی، 10 جون کو بامقصد بجٹ پیش کریں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آج كی ملاقات بہت مثبت رہی، اس ہفتے كے آخر میں دوبارہ ملاقاتیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف، اتحادی اور اسٹیک ہولڈرز كو ساتھ لے كر چلنا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پوری كوشش ہے كوئی نیا ٹیكس نہ لگایا جائے، انفورسمنٹ اور ٹیكس نیٹ وسیع كر كے ٹیكس وصولی میں بہتری لائی جائے۔















Post your comments