ہم ایرانیوں کو مزید سختی سے نشانہ بنائیں گے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی اہلکاروں پر ایرانی حملوں کے بعد ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایرانیوں کو مزید سختی سے نشانہ بنائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی معیشت، فوج اور قیادت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ چکا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا ایران کو دوبارہ نشانہ نہیں بنائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ایران کو کمزور کرنے کے باوجود ایک بار پھر نشانہ بنا سکتے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے، یہ واقعہ ٹرمپ کے تازہ دھمکی آمیز بیان کے بعد پیش آیا۔

لارک جزیرے پر امریکی حملے میں 3 افراد شہید ہوئے

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے میں 3 افراد شہید ہوئے جبکہ کئی ایرانی جنگجو اور شہری زخمی ہوئے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسی حملے کے جواب میں اس نے اردن میں امریکی اڈوں اور متحدہ عرب امارات کے المنہاد فضائی اڈے پر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے المنہاد فضائی اڈے کو ایرانی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

ادھر برطانیہ کے میری ٹائم تجارتی آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے علاقے خصب کے قریب آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک تیل بردار جہاز کو 3 نامعلوم میزائل نما اشیاء سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں اور امریکی نئی دھمکیوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہاز کو پیش آنے والے واقعے کے باعث خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی میڈیا فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے ایرانی جوہری ہتھیار سے متعلق اپنے مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔

انہوں نے ایرانی قیادت کو انتہائی پُرتشدد اور برے لوگ قرار دے دیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ اسے استعمال کرتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار استعمال کرتا تو اب تک مشرقِ وسطیٰ تقریباً ختم ہو چکا ہوتا اور اسرائیل تباہ ہو جاتا، جبکہ اس کے بعد امریکا یا یورپ بھی ممکنہ طور پر نشانے پر ہوتے۔

ایران کو ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے آغاز میں جب تہران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا شروع کیا تو سب حیران تھے، میں بھی حیران رہ گیا تھا۔

ٹرمپ کے مطابق میں نے اسے ایک بہت اچھی بات سمجھا کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کی وہ تمام حمایت ختم ہو گئی جو اسے حاصل تھی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *