ہمارے ملک میں معیشت دانوں اور مفکروں کی کوئی کمی نہیں، بلکہ یہاں ہر دُوسرا شخص چائے کے کھوکھے پر بیٹھ کر آئی ایم ایف کو ایسی ایسی گائیڈ لائنز دے رہا ہوتا ہے کہ واشنگٹن والے سُن لیں تو اپنے دفاتر کو تالے لگا دیں۔ اسی معاشی دانشوری کے طوفانِ نوح میں پچھلے چند سالوں سے ایک نیا لفظ ہماری اشرافیہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے لبوں پر مچل رہا ہے، جسے دُنیا پیار سے ’’کرپٹو‘‘ کہتی ہے۔ لوگ اس کے پیچھے ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے ستر کی دہائی میں لوگ سونا خریدنے یا نوے کی دہائی میں کوآپریٹو سائٹیز میں پلاٹ لینے کیلئے بھاگتے تھے۔
ہم جیسے پرانے وضع دار لوگ، جو آج بھی پانچ سو کا نوٹ لینے سے پہلے اُسے روشنی کے سامنے کر کے قائد اعظم کی تصویر چیک کرتے ہیں، اِس ڈیجیٹل جادوگری کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہماری اِس تشکیک پسندی کو نئی نسل ’’پرانی سوچ‘‘ کا نام دیتی ہے۔ لیکن گزشتہ دِنوں جب ہم نے اُردو املا کے آئینے میں اِس لفظ کا پوسٹ مارٹم کیا تو ایک ایسا ہولناک لسانی انکشاف ہوا کہ ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کرپٹو کے دیوانے گراف دیکھنے میں اِتنے مصروف ہیں کہ اُنہیں اردو زبان کی اِس گہری سیاست کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا۔
حساب کتاب انتہائی سادہ اور سیدھا ہے۔ لفظ ہے ’’کرپٹو‘‘۔ اب ذرا اپنی تخیلاتی قینچی اُٹھائیے اور اِس لفظ کے آخر میں موجود معصوم سے حرف ’’و‘‘ (واؤ) کو کاٹ کر سائیڈ پر رکھ دیجیے۔ پیچھے کیا بچا؟ جی ہاں، خالص، روایتی اور تاریخی لفظ ’’کرپٹ‘‘۔ سبحان اللہ! اُردو زبان کی فصاحت کو داد دیجیے کہ اس نے ایک ہی حرف کے پردے میں مستقبل کی پوری حقیقت چھپا رکھی تھی۔ جو لوگ کل تک بلاک چین اور مالیاتی خودمختاری کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے، وہ دراصل صرف ایک ’’واؤ‘‘ کا سہارا لیکر اِس راستے پر ہیں جس سے ہم پہلے ہی واقف ہیں۔
اِس لسانی دریافت کے بعد اب ہمیں ’’کرپٹو مائننگ‘‘ کی اصطلاح بھی ایک بالکل نئے روپ میں نظر آنے لگی ہے۔ مائننگ کے نام پر جو طاقتور کمپیوٹر رات دِن چلائے جاتے ہیں، جن سے کمرے جہنم کی طرح دہکتے ہیں اور بجلی کا بل دیکھ کر دِل کا دورۂ پڑنے لگتا ہے، وہ کسی نئی کرنسی کی پیداوار نہیں ہے۔ یہ تو ’’کرپٹ‘‘ ہونے کے جدید ترین اور ڈیجیٹل طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ جب آپ کا سسٹم 24 گھنٹے شدید گرمی میں چل کر ایک ایسا کوائن مائن کر رہا ہو جس کا دُنیا میں کوئی وجود ہی نہیں، تو سمجھ جائیں کہ آپ اسی پرانے فلسفے کی آبیاری کر رہے ہیں۔
اس ڈیجیٹل دُنیا کا سب سے بڑا تماشا اسکی قیمتوں کا اُتار چڑھاؤ ہے۔ ادھر امریکہ میں کسی ارب پتی نے ٹویٹر پر کوئی عجیب و غریب کارٹون پوسٹ کیا، اور ادھر کرپٹو کی قیمتیں ایسے نیچے گرتی ہیں جیسے ہمارے ہاں آلو کی قیمتیں کبھی اوپر نہیں جاتی۔ صبح کو جو شخص خود کو کرپٹو کا بادشاہ سمجھ کر ہوائی قلعے بنا رہا ہوتا ہے، شام تک وہ اپنے موبائل کی سکرین کو اس حسرت سے دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے کوئی فیل ہونیوالا طالبعلم اپنا رزلٹ کارڈ دیکھتا ہے۔ اس مارکیٹ میں استحکام نام کی کوئی چڑیا نہیں پائی جاتی، بس ایک اندھی دوڑ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کھیل میں شامل ہمارے نوجوان جب نقصان اُٹھاتے ہیں، تو اسے معاشی اصطلاح میں ’’مارکیٹ کریش‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ہمیں اُن کی اِس معصومیت پر رونا آتا ہے۔ بھیا! جب نام کے اندر ہی سے ’’واؤ‘‘ غائب ہو رہا ہو، تو مارکیٹ نے کریش نہیں ہونا تو کیا لڈو بانٹنے ہیں؟ یہ تو وہ جادو کی نگری ہے جہاں راتوں رات ارب پتی بننے کے خواب دکھا کر اِنسان کو سڑک پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ بس فرق صرف اِتنا ہے کہ پرانے زمانے میں جیب کٹتی تھی تو احساس ہوتا تھا، اب تو ڈیجیٹل والٹ خالی ہوتا ہے اور بندۂ مسکراتا رہتا ہے۔
ہمارا نوجوانوں کو یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ اگلی بار جب کوئی سوٹ بوٹ پہنا ہوا دانشور آپکو کرپٹو کا مشورہ دے، تو اُسے چائے کا کپ پلائیں اور کہیں کہ بھائی صاحب، ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں بغیر ’’واؤ‘‘ والی چیزوں کا اتنا تجربہ ہو چکا ہے کہ اب مزید ہمت نہیں ہے۔ ہم اپنی حلال کی کمائی کو کسی ایسی جگہ نہیں جھونکنا چاہتے جہاں سے ایک نٹ ڈھیلا ہوتے ہی پیچھے صرف پچھتاوا اور ایک عالمگیر برائی رہ جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دیسی گھی اور نقد پیسے کا جو سکون ہے، وہ کسی بٹ کوائن میں نہیں مل سکتا۔
آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ دُنیا جتنی مرضی ڈیجیٹل ہو جائے، اُردو زبان کی سچائی کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ یہ ’’واؤ‘‘ دراصل وہ آخری تنکا ہے جو اِس پورے نظام کو سہارا دیئے ہوئے ہے، اور جس دِن یہ تنکا بھی ہَوا میں اُڑ گیا، اُس دن بہت سے لوگوں کے پاس صرف ’’کرپٹ‘‘ نظام کی یادیں باقی رہ جائیں گی۔ اِس لیے ہوشیار رہیے، اپنے روپے پیسے کی قدر کیجیے اور کسی بھی ایسے خواب کے پیچھے مت بھاگیں جسکا املا ہی مشکوک ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل کے چکر میں آپکا حال بھی ماضی کا حصہ بن جائے۔















Post your comments