آزاد کشمیر الیکشن، ن لیگ فاتح، قائم مقام صدر پر حملہ، پیپلز پارٹی، ن لیگ کے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات

 آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے پر تشدد انتخابات میں مسلم لیگ (ن) فتح، لیگی امیدوار مہاجرین کی 9 نشستوں پرکامیاب، پیپلز پارٹی ایک فاتح، مظفرآباد ڈویژن میں بھی ن لیگ کے امیدوار آگے ہیں، کامیابی پر ن لیگ کے حامیوں اور امیدواروں نے مٹھائی تقسیم کی جشن منایا، صبح پولنگ کے دوران آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر پر حملہ ہوا، پیپلزپارٹی نے کہا کہ پہلے آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ہوا اورہمارے ایک کارکن کو شہید کیا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ نے صدر پر حملہ کیا، رانا ثناء اللہ نے کہا غلط معلومات دی گئیں، چیئرمین پی پی صورتحال کوسمجھیں، کارکن کو ہارٹ اٹیک ہوا، ن لیگ کی مریم اورنگزیب نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے مان لیں لوگوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا، پی پی قمر زمان کائرہ نے کہا ہم سے الیکشن چھینا گیا، افضل ندیم چن نے کہا آزاد کشمیر الیکشن الٹرا فارم 47 والا نظر آ رہا ہے، راجہ پرویز اشرف نے کہا ہمارے پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں سے زبردستی نکالا گیا، وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا آزاد کشمیر میں صدر، وزیراعظم آپکا پھر دھاندلی کیسے ہوگئی؟ عوام سے پوچھیں ووٹ کیو ںنہیں دیا،عظمیٰ بخاری نے کہا رونا دھونا پارٹی کا وجود کہیں نظر نہیں آیا، شیری رحمٰن نے کہا کہ الیکشن کمیشن بےضابطگیوں پر فوری کارروائی کرے، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیرجسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے اعلان کیا ہے کہ ایل اے 27 مظفر آباد کا ملتوی ہونے والا الیکشن اب بروز منگل 4اگست کو ہوگا، کسی کے دبائو میں نہیں قانون کے مطابق کام کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دونوں انتخابی مراحل میں 32 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن 23 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 21 میں سے 19 حلقوں میں پولنگ مکمل ہوئی، جن میں مسلم لیگ (ن) نے 14 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مظفرآباد ڈویژن کی سات نشستوں میں سے مسلم لیگ ن نے چار اور پیپلز پارٹی نے تین نشستیں جیتیں، جبکہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی 12 نشستوں میں مسلم لیگ ن نے 10 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے دو نشستیں حاصل کیں۔ مظفرآباد ڈویژن کے نتائج کے مطابق اپر نیلم سے مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کامیاب ہوئے، جبکہ لوئر نیلم سے موجودہ سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عبدالوحید نے کامیابی حاصل کی۔مظفرآباد شہر کے حلقے میں بڑا اپ سیٹ دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے مختار احمد عباسی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی کو شکست دے کر نشست اپنے نام کرلی۔ دوسرے مرحلے کا سب سے بڑا اپ سیٹ حلقہ کھاوڑہ میں ہوا، جہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ثاقب مجید نے سینئر پارلیمنٹرین، موجودہ اسپیکر اور قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کو شکست دے دی۔گڑھی دوپٹہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مبشر منیر اعوان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ جہلم ویلی کے حلقہ لیپہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دیوان علی خان چغتائی نے مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد رشید کو شکست دے دی۔اسی طرح ایک اور اہم مقابلے میں دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ فاروق حیدر خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ اشفاق ظفر کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نشستوں کے نتائج کے مطابق ایل اے 34 جموں 1، کراچی، لاہور اور دیگر علاقوں سے مسلم لیگ ن کے ناصر ڈار، ایل اے 35 جموں 2، گوجرانوالہ سے چوہدری اسماعیل، ایل اے 36 جموں 3، سیالکوٹ سے احسن رضا اور ایل اے 37 جموں 4، نارووال سے مریم جاوید کامیاب قرار پائیں۔ایل اے 38 جموں 5، گجرات سے مسلم لیگ ن کے زیشان علی کامیاب ہوئے، جبکہ اکبر ابراہیم دوسرے نمبر پر رہے۔ ایل اے 39 جموں 6 سے مسلم لیگ ن کے راجا صدیق نے کامیابی حاصل کی۔ایل اے 40 وادی 1، کراچی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون کامیاب قرار پائے۔ ایل اے 41 وادی 2، لاہور سے مسلم لیگ ن کے عامر شاہ، ایل اے 42 وادی 3، سوہاوہ سے ملتان تک کے حلقے سے شوکت شاہ، ایل اے 43 وادی 4، راولپنڈی سے یاسین لون اور ایل اے 44 وادی 5، راولپنڈی، اسلام آباد اور مری سے احمد رضا قادری نے کامیابی حاصل کی۔ایل اے 45 وادی 6، پشاور، ہزارہ اور دیگر علاقوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ماجد خان کامیاب قرار پائے۔الیکشن کے روز انٹرنیٹ کی بندش، مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی اور متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر لڑائی جھگڑے کے واقعات کے باعث ٹرن آؤٹ ماضی کے انتخابات کی نسبت کم رہا۔واضح رہے کہ حلقہ ایل اے 27 کوٹلہ میں انتخابی عملہ نہ پہنچنے کے باعث پولنگ شروع نہیں ہوسکی، جبکہ حلقہ ایل اے 28 لچھراٹ کے 56 پولنگ اسٹیشنوں پر بھی پولنگ نہیں ہوسکی۔ ان حلقوں میں 4 اگست کو پولنگ ہو گی اور ان کے مکمل نتائج پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔ قبل ازیں صبح پولنگ کے دوران مظفر آباد کے حلقے ایل اے31میں دوسیاسی جماعتوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔پولیس کے مطابق واقعے میں ایک شخص جاں بحق ہوا،جسکی شناخت مشتاق شاہ کے نام سے ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ہوا پھر کارکن مشتاق شاہ کی شہادت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی نیت واضح ہوگئی،دھاندلی کرکے مسلم لیگ (ن) کا جیتنا عوام کا ریاست پراعتماد ختم کردے گا۔ شیری رحمان نے کہا کہ آج ریاست کے صدر پر حملہ ہوا، فائرنگ کے واقعات جمہوری عمل، آزادانہ انتخابی ماحول اورعوام کےحقِ رائے دہی پر براہِ راست حملہ ہے۔ قمر زمان کائرہ کہا کہ ہماری نشاندہی کے باوجود صدر آزاد کشمیر لطیف اکبر پر قاتلانہ حملہ ہوا،ایک کارکن بھی شہید ہوگیا،،آزادکشمیر کا یہ الیکشن ہم سے چھینا گیا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیربخاری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات غیرشفاف اور دھاندلی شدہ قرار دے دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ن لیگ کی جانب سے پولنگ اسٹیشن کے باہر تقسیم کیے گئے بیلٹ پیپر ہیں ، الیکشن کے نتائج کو نہیں مانتے ، جبر کی حکومت کوئی نہیں مانتا ، ہم عوام کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے الزام لگایا کہ آزاد کشمیر میں الٹرا فارم47والا الیکشن نظر آرہاہے، آزادکشمیر الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک ہوگیا ، سب کچھ ایک پارٹی کو اقتدار دلانے کےلیے کیا جا رہا ہے،ڈر ہے کہ الیکشن انکے گلو بٹ ماڈل میں نہ بدل جائے۔ شیری رحمان نے کہاکہ بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ میں تاخیر ہوئی ، حساس پولنگ اسٹیشن ایل اے 31 پر صرف ایک پولیس اہلکار کی تعیناتی پر قابل تشویش ہے، انہوں نے الیکشن کمیشن سے بےضابطگیوں پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم آپ کا ، پھر دھاندلی کیسے ہوگئی؟ الزام تراشی کے بجائے عوام سے پوچھتے کہ آپ کو ووٹ کیوں نہیں دیئے ، میرپور ڈویژن میں عوام نے ن لیگ کو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔ امیر مقام کہا کہ ثبوت کے بغیر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے ، بلیم گیم سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ، عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے ۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہا میرپور کے عوام نے نواز شریف،شہبازشریف اور مریم نواز پر اعتماد کیا، ن ليگ کے ورکر کیمپس کی رونق بتارہی ہے کہ فتح ن لیگ کی ہوگی ، جو جماعت شکست کے بعد رونے اور دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے، اسے سمجھنا چاہیے کہ الیکشن رونے، دھمکیوں یا الزام تراشی سے نہیں جیتے جاتے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہاکہ رونا دھونا پارٹی کا وجود کہیں نظر نہیں آرہا ، کشمیر میں آج پھر مسلم لیگ ن کے امیدوار بڑے مارجن سے کامیاب ہوں گے۔ علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیرجسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے اعلان کیا ہے کہ ایل اے 27 مظفر آباد کا ملتوی ہونیوالا الیکشن اب بروز منگل 4اگست کو ہوگا۔ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ ،روڈ بند ہونے کی وجہ سے الیکشن ملتوی کیے،رات کی شدید بارش سے درخت گرنے سے روڈ بلا ک ہوئے۔جمہوری ریاست میں صرف ووٹ سے تبدیلی آتی ہے، تبدیلی کی راہ ہموار کرنی چاہیے،تشدد اور دیگر کوئی چیز تبدیلی کا راستہ نہیں ہوسکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ جو شکایت آتی ہے اس پر فوری ایکشن لیتے ہیں،قانون کے مطابق کام کرینگے، کسی کے دبا میں نہیں آئینگے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *