امریکا نے ایران پر حملہ کیا ہے اور دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر نئے حملے کیے ہیں۔
روسی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان میں بعض مقامات کو نشانہ بنایا ہے تاہم ان حملوں سے جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں مل سکی۔
یاد ر ہے کہ اس سے پہلے امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے حملے کیے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں حالیہ حملوں کے دوران 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے آبنائے ہرمز میں 3 بحری جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائل صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایکسیس کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی فوجی تنصیبات پر امریکا کے نئے فضائی حملے 10 روز قبل کیے گئے حملوں کے مقابلے میں دائرہ کار اور شدت کے اعتبار سے 4 سے 5 گنا بڑے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
ایکسیس کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، ساحلی نگرانی کے نظام، اینٹی شپ کروز میزائل تنصیبات، بندرگاہی سہولتوں اور ڈرون لانچنگ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیریک اور جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
الجزیرہ نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جزیرہ قشم میں کم از کم 6، سیریک میں 7 سے 9 جبکہ بندر عباس میں 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ حملے ایسے وقت کیے گئے جب لاکھوں ایرانی سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کا سخت ردِعمل
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب شہید سپریم لیڈر اور دیگر کے جسدِ خاکی عراق لے جائے گئے ہیں۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کارروائی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
فوج نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی محفوظ آمد و رفت کا واحد محفوظ راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی ایران نے کی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی دھمکیاں، تیل پر پابندیاں، جنوبی ایران پر حملے اور لبنان میں صہیونی جارحیت کی مسلسل حمایت شامل ہے، دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا، ایران ہرگز نہیں جھکے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس عہد شکنی کے تمام نتائج کی ذمے داری امریکی حکومت پر عائد ہو گی۔
جہازوں پر حملوں کے الزامات مسترد
تہران نے تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق خبروں اور بیانات کو مشکوک الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق ایک ٹینکر عمان کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر نے ایرانی تنبیہات کو نظر انداز کیا تھا، تاہم اس پر حملے کی براہِ راست ذمے داری قبول نہیں کی۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق دیگر 2 جہازوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
رپورٹ کے مطابق تینوں حملے عمان یا متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب پیش آئے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ جہاز عمان کے قریب واقع بحری راستہ استعمال کر رہے تھے۔
امریکا نے ایران کے تیل بیچنے پر پھر پابندی لگادی۔ ایران نے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایران امریکی اقدام کا مناسب جواب دے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے اور اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا ہے۔
امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکا نے اکیس اگست تک ایران کو تیل بیچنے کی اجازت دی تھی تاہم اب امریکی محکمہ خزانہ نے اس مدت کم کرکے سترہ جولائی تک محدود کردیا۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ نئی پابندیاں آبنائے ہرمز میں حملے کے سبب لگائی گئی ہیں۔















Post your comments