گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا، آج رات بارہ بجے کے بعد انتخابی مہم چلانے پر پابندی ہوگی۔
پولنگ اسٹیشنز میں عملہ اور پولنگ کا سامان آج روانہ کیا جائے گا، 24 نشستوں پر انتخابات 7 جون کو ہونگے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، مقامی پولیس اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار تعینات ہوں گے۔
سات جون کو مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرینگے۔
مجموعی طور پر 396 مرد امیدوار جبکہ 8 خواتین امیدوار انتخابی میدان میں اتری ہیں۔
پیپلز پارٹی23 امیدوار، ن لیگ 22،استحکامِ پاکستان پارٹی 15،پاکستان مسلم لیگ11،جے یو آئی ف کے9 امیدوار میدان میں ہیں۔
ایم ڈبلیو ایم 7،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کے بےبنیاد بیانات مسترد کر دیے ہیں۔
اسلام آباد سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹی کہانیوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے فروغ میں عالمی شہرت رکھتا ہے، گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی دعوے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے کا طویل ترین غیر حل شدہ تنازع ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق کشمیر تنازع کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد میں ہے، کشمیریوں کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کا حق ملنا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، بھارتی فورسز کو سخت قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ تشویشناک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرے اور 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔















Post your comments