آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 41 رنز سے ہرادیا، 232 رنز کے ہدف کے جواب میں قومی ٹیم 190 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میں مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنائے۔
232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی اور صرف 58 رنز پر اپنی 5 اہم وکٹیں گنوا بیٹھی، شاداب خان کی مزاحمت بھی ٹیم کو فتح نہیں دلواسکی۔
شاداب خان نے انتہائی مشکل حالات میں 104 گیندوں پر 71 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جس میں ایک چوکا اور 3 چھکے شامل تھے۔ ان کی یہ اننگز ایسے وقت میں آئی جب پاکستان کی ابتدائی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی اور ٹیم مسلسل دباؤ کا شکار تھی۔
پاکستان کو میچ جیتنے اور سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کے لیے 232 رنز درکار تھے، تاہم آسٹریلوی بولرز نے ابتدا ہی سے میزبان ٹیم کو دباؤ میں رکھا۔ مشکل وکٹ، غیر متوقع باؤنس اور اسپنرز کی مددگار کنڈیشنز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔
پاکستانی اوپنرز صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے اننگز کا آغاز کیا، لیکن اننگز کے پہلے ہی اوور میں آسٹریلیا کو بڑی کامیابی مل گئی، معاذ صداقت بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے، ان کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے، دوسرے اوور میں صاحبزادہ فرحان بھی صرف 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ابتدائی دو وکٹیں گرنے کے بعد بابر اعظم اور غازی غوری نے محتاط انداز میں اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ غازی غوری نے میدان کے چاروں طرف دلکش اسٹروکس کھیلے جبکہ بابر اعظم نے بھی چند خوبصورت شاٹس کے ذریعے اسکور آگے بڑھایا۔
بابر اعظم نے 16 رنز کی مختصر اننگز کھیلی جس میں دو چوکے شامل تھے، تاہم نیتھن ایلس کی ایک اندر آتی ہوئی گیند ان کے لیے مشکلات کا باعث بن گئی۔ آسٹریلیا کی زوردار اپیل پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا، جس کے بعد بابر نے ریویو لیا لیکن بال ٹریکنگ میں گیند وکٹوں سے ٹکراتی دکھائی گئی اور یوں پاکستان کو تیسرا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان علی آغا کریز پر آئے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے، اور 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد عبدالصمد بھی 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
آسٹریلیا کے بولر نیتھن ایلس نے 4 اور میتھیو شارٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، آسٹریلوی ٹیم کو ایک مرحلے پر بڑا اسکور بنانے کی امید تھی، تاہم پاکستانی بولرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے مہمان ٹیم کو کُھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
اگرچہ آسٹریلیا کی جانب سے چند اہم شراکتیں قائم ہوئیں، لیکن پاکستانی بولنگ اٹیک مسلسل دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن میں سب سے نمایاں کارکردگی جوش انگلس اور کیمرون گرین نے دکھائی، جنہوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں، کیمرون گرین نے 53، جوش انگلس نے 51 رنز بنائے۔
کیمرون گرین نے مشکل وکٹ پر انتہائی محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی اننگز کو سنبھالا، جبکہ میٹ رینشا بھی اچھی فارم میں نظر آئے اور ٹیم کے مجموعے میں اہم رنز کا اضافہ کیا، میٹ رنشا نے 43 اور اولیور پیکے نے 32 گیندوں پر 31 رنز بنائے، جس میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے۔ انہوں نے آخری اوور میں حارث رؤف کے خلاف ایک شاندار چھکا اور چوکا لگا کر اسکور کو 230 کے پار پہنچایا۔
پاکستان کی جانب سے بولنگ میں عرفات منہاس ایک بار پھر متاثر کن ثابت ہوئے اور انہوں نے 27 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے بھی نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکے رکھا۔
فاسٹ بولرز میں شاہین شاہ آفریدی نے اختتامی اوورز میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں میتھیو کوہنی مین اور ناتھن ایلس کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔
حارث رؤف نے بھی ڈیتھ اوورز میں اپنی رفتار اور درست یارکرز سے آسٹریلوی بلے بازوں کو پریشان رکھا۔ انہوں نے اننگز کی آخری گیند پر اولیور پیکے کو شاندار یارکر پر بولڈ کر کے آسٹریلیا کی اننگز کا اختتام کیا۔
دونوں ملکوں کے درمیان تین میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ہوگئی، آخری میچ 4 جون کو لاہور میں ہی کھیلا جائے گا۔
دوسری جانب آج کے میچ کی اختتامی تقریب میں چاچا کرکٹ کو مدعو کیا گیا۔ چاچا کرکٹ نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کو اپنی آخری سیریز قرار دیا ہے۔















Post your comments