بحرالانساب: اخوند سالاک کا گمگشتہ علمی و تاریخی شاہکار تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سترہویں صدی عیسوی کے برصغیر کا علمی و روحانی اُفق ایسی نابغہ روزگار شخصیات سے درخشاں ہے جنہوں نے علم و عمل اور خانقاہ و میدانِ کارزار کے درمیان ایک حسین توازن قائم کیا۔ انھی قدآور شخصیات میں ایک نمایاں نام محمد اکبر شاہ الملقب بہ اخوند سالاک کا ہے، جو اپنے عہد کے متبحر عالم، فقیہہ، غازی اور مؤرخ تھے۔ اخوند سالاک کی زندگی محض گوشہ نشینی کی آئینہ دار نہ تھی، بلکہ اُنہوں نے اپنے قلم اور فکر سے ایک پورے عہد کی فکری و فقہی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ اُن کی علمی خدمات کا دائرہ فقہ اور تاریخ سے لے کر تصوف اور سوانح تک پھیلا ہوا ہے، اور اُن کی تحریروں نے بعد کے ادوار میں اُٹھنے والی کثیر علمی و سیاسی تحریکوں کو مضبوط فکری اساس فراہم کی۔
اخوند سالاک کی تصنیفی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا قلم ہر میدان میں مسلمہ سند کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُن کی شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’فتاویٰ الغریبہ‘‘ فقہ اور شریعت کا ایک گراں قدر ذخیرہ ہے، جس نے تحریکِ مجاہدین کے دور میں حساس شرعی فیصلوں اور انتظامی اُمور کے لیے بنیادی ماخذ کا کام کیا۔ اسی طرح اُن کی کتاب ’’غزویہ‘‘ خطے میں ہونیوالے معرکوں اور مجاہدین کی ایمان افروز جدوجہد کی ایک معتبر تاریخی دستاویز ہے، جبکہ ’’مناقب اخوند پنجو‘‘ میں اُنہوں نے اپنے پیر و مرشد کی روحانی و اخلاقی تعلیمات کو خوبصورت پیرائے میں محفوظ کیا۔ یہ تمام کتب بنیادی طور پر عربی آمیز فارسی (دری) زبان میں قلمبند کی گئیں، جو اُس دور کی علمی و دفتری زبان تھی۔
ان تمام گراں قدر تصانیف کے جھرمٹ میں اخوند سالاک کی کتاب ’’بحرالانساب‘‘ ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند ہے جو اپنے موضوع، وسعت اور ندرت کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب دراصل نسب ناموں اور قبائلی تاریخ کا ایک ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس میں مؤرخ نے خطے کی تاریخ کو اس کے انسانی مآخذ کیساتھ محفوظ کرنیکی شاندار کوشش کی۔ ایک ایسے دور میں جب قبائلی شجروں، خاندانی روایات اور نسلوں کے احوال کو دستاویزی شکل دینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، اخوند سالاک نے نہایت عرق ریزی سے مختلف اقوام اور مشائخ کے شجرۂ ہائے نسب کو یکجا کر کے تاریخِ انسانی پر ایک بہت بڑا احسان کیا۔
بحرالانساب کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ یہ صرف کسی ایک مخصوص قبیلے یا گروہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ مؤرخین کے مطابق اس ضخیم علمی مآخذ میں افغانوں کے مختلف قبائل، ترکوں کی نسلوں، ساداتِ کرام کے معتبر سلسلوں اور مشائخِ طریقت کے شجروں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ اخوند سالاک نے اِس کتاب میں پختونوں اور دیگر خطوں کے خاندانی پس منظر کو قدیم تاریخی کڑیوں سے جوڑتے ہوئے اُن کے شجرۂ نسب کو تاریخ کے جلیل القد انبیاء تک پہنچایا، جو اُن کی گہری تفتش، وسیع مطالعے اور نسلیاتی تاریخ پر گہری گرفت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بحرالانساب کے تحقیقی مندرجات کا ایک نہایت دلچسپ اور منفرد پہلو سواتی اقوام کے تاریخی پس منظر اور شجرۂ نسب سے متعلق ہے۔ کتبِ تاریخ کے پاتال میں اُترنے والے محققین کیلئے یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ بعض معتبر ترین تاریخی کتب میں سواتی قوم کا ایک باقاعدہ قلمی شجرۂ نسب اخوند سالاک (مدفن کابلگرام) کی ذاتِ گرامی سے منسوب ملتا ہے۔ اس متبحر مؤرخ کی تحقیق کے مطابق، سواتی اقوام کا یہ خاندانی سلسلہ معروف قبائلی شخصیت کالو خان بن بایزید خان سے شروع ہو کر قدیم تاریخ کے جلیل القد پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام کے فرزند ارجمند ’’یہودا‘‘ تک جا پہنچتا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف سواتی اقوام کی قدیم نسلی جڑوں پر ایک نئی روشنی ڈالتا ہے، بلکہ علمِ انساب میں اخوند سالاک کی وسعتِ نظر کو بھی آشکار کرتا ہے۔
بحر الانساب صرف خشک شجروں یا ناموں کی فہرست پر مشتمل کوئی روایتی دستاویز نہیں تھی، بلکہ تاریخ دانوں کے نزدیک اس کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ اس میں نسب ناموں کے ساتھ ساتھ جلیل القد اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کے حالاتِ زندگی، اُن کے علمی و روحانی سفر اور اُن کے افکار و مشن کو بھی نہایت احسن انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب بیک وقت علمِ انساب کی ایک مستند لغت بھی ہے، تاریخ کا ایک گراں مایہ اثاثہ بھی، اور تذکرۃ الاولیاء کی صنف کا ایک معتبر نمونہ بھی، جو اُس دور کے سماجی و مذہبی ڈھانچے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
وقت کی بے رحم موجوں اور نامساعد حالات کے باعث بدقسمتی سے یہ عظیم علمی شاہکار آج اصل شکل میں نایاب ہو چکا ہے، لیکن اسکی نایابی نے اسکی اہمیت کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ، تصوف اور قبائلی مآخذ کے موضوع پر لکھی جانیوالی کثیر تصانیف میں بحرالانساب کے جا بجا حوالے، اسکے اقتباسات اور اسکے حواشی کی موجودگی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ کتاب بعد کے مؤرخین کیلئے ہمیشہ ایک ناگزیر ماخذ رہی ہے۔ برصغیر کے نامؤر تذکرۂ نگاروں اور سوانح نگاروں نے جب بھی خطے کے مقتدر اولیاء ، خصوصاً سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز چشتیؒ کے احوالِ زندگی اور اُن کے مشن پر قلم اُٹھایا، تو اخوند سالاک کی اس کتاب کو ایک معتبر دلیل کے طور پر پیش کیا۔
تحقیق کے افق پر تجسس اور حیرت کا ایک نیا باب اس وقت کھلتا ہے جب خطے کی اقوام پر لکھی جانیوالی بعض نہایت معتبر کتب کے مآخذ اور مراجع میں اخوند سالاک کی اِن تصانیف کا باقاعدہ اردو کتب کے طور پر ذکر ملتا ہے۔ نامور مؤرخین نے جب اپنے علمی کام کے دوران ان نادر نسخوں سے استفادہ کیا تو اُنہوں نے بحرالانساب اور غزویہ کو اردو مراجع کی فہرست میں شمار کیا، جس سے یہ علمی حقیقت بالکل آشکار ہوتی ہے کہ اخوند سالاک کا یہ علمی سرمایہ کسی نہ کسی دور میں باقاعدہ طور پر اردو قالب میں ترجمہ ہو کر محفوظ کیا جا چکا تھا۔ پس، یہ گراں مایہ دستاویزی ثبوت اور تواتر کیساتھ ملنے والے حوالے اس امر کی حتمی گواہی دیتے ہیں کہ اخوند سالاک کی یہ تصنیف محض ایک شجرۂ نسب نہیں بلکہ علم و ادب کا وہ ابدی سرچشمہ ہے، جو اپنی ظاہری نایابی کے باوجود آج بھی ہمارے شاندار علمی ماضی، قبائلی جڑوں اور فکری تاریخ کو ایک نئی زندگی بخش رہا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *