ایران کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی تجاویز میں امریکا کو جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے۔
ایرانی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری پر زور دیا گیا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا جواب قابلِ قبول نہیں ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے جواب پر امریکی صدر ٹرمپ کے ردعمل کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایران میں منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے نہیں بنائے جاتے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب سے خوش نہیں تو یہ ایران کے حق میں بہتر ہے۔
قبل ازیں ایرانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ امریکی تجاویز ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھیں۔
ایرانی تجاویز میں امریکا کو جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی پر زور دیا، ایرانی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری پر بھی زور دیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جواب قابلِ قبول نہیں ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو بھجوائے گئے جواب میں ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا کا 20 سال تک یورینیم افزدوہ نہ کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی تجویز ہے، ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ایران کی جوہری معاملات پر آئندہ 30 روز میں مذاکرات کی تجویز ہے، ایران نے جوہری تنصیبات ختم کرنے کا امریکی مطالبہ بھی مسترد کردیا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
ایران کے سرکاری ذرائع نے کہا کہ جوہری مواد سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹ کے اہم نکات غلط ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق جواب کا اصل متن تھا کہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے، ایران پر مستبقل میں دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا سے تیل برآمدات سمیت تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔














Post your comments