ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ خاتمے کی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت سے متعلق پیغام جاری کردیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکا سے مفاہمتی یادداشت پر میرا نقطۂ نظر مختلف تھا، صدر پزشکیان اور سپریم نیشنل کونسل کی اتفاق رائے پر اس کی منظوری دی۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مستقبل میں انفرادی سطح پر مذاکرات ہوں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ دشمن کے نقطۂ نظر کو قبول کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فریق بہت زیادہ مطالبات رکھنا چاہتا ہے تو انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔
ایرانی رہبرِ معظم نے کہا کہ ایرانی صدر اور دیگر عہدے داروں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ایرانی قوم کے حقوق اور مزاحمتی محاذ کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، اس کے بعد ہی انہیں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی اجازت دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
اس موقع پر عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمت کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی حمایت ناگزیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور فرانس کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے مواقع پر زور دیا جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے سفارتی عمل کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے دیرپا امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور فرانس دونوں نے عالمی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ خارجہ پالیسی ایرانی مفادات کا تحفظ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی رہنمائی میں ایران کے حقوق، وقار اور آزادی کا تحفظ کیا جائے گا۔














Post your comments