ایران اور امریکا کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس کے باعث مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بڑی حد تک لبنان کی صورتِ حال پر ہو گا۔
معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کے درمیان تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ کیا جائے گا، عبوری معاہدے کے مطابق حتمی سمجھوتے میں بھی لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کی جائے گی۔
دوسری جانب معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے لبنان میں جاری ہیں، اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں 2 مارچ سے اب تک 4 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، انہی حملوں کے باعث ایران نے سوئٹزر لینڈ میں امریکا کے ساتھ طے شدہ مذاکرات بھی مؤخر کیے۔
لبنانی حکومت اور حزب اللّٰہ دونوں اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم اس مقصد کے حصول کے طریقۂ کار پر دونوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، حزب اللّٰہ لبنان کے مسئلے کو ایران امریکا مذاکرات سے جوڑنے کی حامی ہے، جبکہ لبنانی حکومت اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔
کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے ماہر مائیکل ینگ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ لبنان کی علاقائی خود مختاری اور سالمیت کو معاہدے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان اکتوبر 2023ء سے جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ستمبر 2024ء اور پھر مارچ 2026ء میں اسرائیل نے حملوں میں نمایاں شدت پیدا کی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں، اسرائیل کو اپنی کارروائیوں کا دائرہ محدود کرنا چاہیے، لبنان میں جنگ غیر ضروری طور پر طول پکڑ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے میں لبنان کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اس مسئلے کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، جبکہ امریکا بھی لبنانی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے تاکہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں روک دے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
مائیکل ینگ کے مطابق اسرائیل مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتا اور اسی مقصد کے تحت لبنان میں جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔
ادھر حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران امریکا معاہدے کو ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان آئندہ ہفتے براہِ راست مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے بیرونی حمایت ناگزیر ہو گی، کیونکہ لبنان تنہا اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے بنیادی تنازع کو حل کرنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔














Post your comments