ہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں۔ یہاں لباس پر بحث ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، مگر کردار پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔ جسم کی بے پردگی پر جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں، لیکن جھوٹ، خیانت، بددیانتی اور ظلم ہماری اجتماعی حس کو زیادہ دیر بے چین نہیں کرتے۔ گویا ہماری ساری غیرت جسم کے گرد گھومتی ہے اور ضمیر کو ہم نے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ شاید اِسی لیے ہم بظاہر ایک ملبوس معاشرہ ہیں، مگر اندر سے برہنہ ہوتے جا رہے ہیں۔
کسی بھی تہذیب کا اصل امتحان اُس کے ملبوسات نہیں، اُس کے رویئے ہوتے ہیں۔ قومیں اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ وہ کیا پہنتی ہیں، بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہ سچ کے ساتھ کہاں کھڑی ہیں، انصاف کو کتنی اہمیت دیتی ہیں اور امانت کو کس حد تک مقدس سمجھتی ہیں۔ لباس شخصیت کا حصہ ضرور ہے، مگر شخصیت کی پوری تعریف نہیں۔ جب کردار کمزور ہو جائے تو بہترین لباس بھی عزت کا محافظ نہیں بن سکتا۔
ہم دُوسروں کے عیب گنوانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں، مگر اپنے زخموں پر نظر ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمارے بازاروں میں جھوٹ بکتا ہے، ملاوٹ منافع کا ذریعہ بنتی ہے، ناپ تول میں کمی کاروباری چالاکی سمجھی جاتی ہے اور وعدہ خلافی معمول کی بات ہے۔ رشوت نے ضرورت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور سفارش قابلیت پر سبقت لے جا چکی ہے۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جو کسی قوم کے جسم کو نہیں، اُس کے ضمیر کو کھوکھلا کرتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون کیا پہنتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون کیا کرتا ہے۔ کون امانت میں خیانت نہیں کرتا؟ کون کمزور کا حق نہیں مارتا؟ کون قانون کو اپنے مفاد کے تابع بنانے کے بجائے خود قانون کے تابع رہتا ہے؟ جب اِن سوالوں کے جواب کمزور پڑ جائیں تو معاشرہ خواہ کتنا ہی خوش لباس کیوں نہ ہو، اُس کی اخلاقی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔ ظاہری وقار کبھی بھی باطنی زوال کا مستقل پردہ نہیں بن سکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دُنیا کا کوئی معاشرہ خامیوں سے پاک نہیں۔ ہر قوم کو اپنے مسائل کا سامنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ معاشرے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے انہیں درست کرنیکی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کچھ دُوسروں کی کمزوریوں کو اپنی برتری کا ثبوت سمجھ لیتے ہیں۔ خود احتسابی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر یہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ جو قوم آئینہ توڑ دیتی ہے، وہ اپنے چہرے کے داغ کبھی نہیں دیکھ پاتی۔
ہماری ایک بڑی کمزوری دوہرا معیار بھی ہے۔ اُصول اُس وقت تک اچھے لگتے ہیں جب تک اُن کا اطلاق دُوسروں پر ہو۔ اپنی باری آئے تو سفارش، تعلق، مفاد اور طاقت اچانک اُصولوں سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ اداروں کو کھوکھلا کرتا ہے، قانون کو کمزور بناتا ہے اور انصاف کا اعتماد ختم کر دیتا ہے۔ ادارے اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتے؛ انہیں مضبوط کردار والے انسان مضبوط بناتے ہیں۔
حسد، بہتان، کردار کشی اور منافقت نے ہمارے اجتماعی مزاج کو بھی زخمی کر دیا ہے۔ کسی کی کامیابی ہمیں تحریک دینے کے بجائے اکثر بے چین کر دیتی ہے۔ اختلاف کو دشمنی، تنقید کو گستاخی اور چاپلوسی کو وفاداری سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اہل لوگ خاموش ہوتے جاتے ہیں اور شور مچانے والے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ شور کبھی کردار کا متبادل نہیں بن سکتا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بحث کا رُخ بدلیں۔ جسم کے پردے کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ضمیر کا پردہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ جب جھوٹ ذہانت، رشوت مجبوری، بے ایمانی کامیابی اور منافقت مصلحت بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ بظاہر ملبوس ضرور ہے، مگر اس کا ضمیر برہنہ ہو چکا ہے۔ قوموں کی عزت اُن کے لباس سے نہیں، اُن کے کردار سے جنم لیتی ہے، اور تاریخ بھی آخرکار کپڑوں کو نہیں، کردار کو یاد رکھتی ہے۔














Post your comments