کراچی کے مشرقی حصے میں کراچی شہر کے ایک بڑے حصے کو سپر ہائی وے کے راستے کاٹھور سے ملانے کے لیے شاہراہ بھٹو کا افتتاح ہوا ہے بے حد خوشی ہے اور میں تو پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمیشہ کہتا ایا ہوں کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو بہت بڑے بڑے پروجیکٹ دیے ہیں ۔
بھٹو صاحب کے دور میں روٹی پلانٹ کا اغاز کراچی سے ہوا پیپل اسٹیل مل چھوٹی تھی اس کے بعد پاکستان اسٹل مل جیسے دیو ہیکل پروگرام کا اعلان کیا گیا جس میں لگتا تھا کراچی کے ہر چوتھے پانچویں گھر کا کوئی فرد ملازم ہے ۔ کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن مختلف ہسپتال جس میں عباسی شہید ہسپتال بھی شامل ہے لیاقت اباد کی سپر مارکیٹ بھلے اس کی وجہ کچھ بھی ہو ۔ اسکولوں میں بچوں کو ہاف ٹائم میں دودھ کی فراہمی ۔ کراچی کی مرکزی شاہراؤں کی تعمیر و توسیع سپر ہائی وے کی تکمیل ، اور اس کے علاوہ بھی کام ہوں گے جو پیپلز پارٹی نے کراچی میں کیے لیکن پیپلز پارٹی کو ہمیشہ اس کے بدلے میں محبت نہیں ملی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کے اندر ایسے عناصر تھے جو سندھی اور مہاجر کی تفریق پر یقین رکھتے تھے
لیکن اس کی اڑ میں ایم کیو ایم الطاف حسین کو معطون کرنا کہ ان کے دور میں کچھ نہیں ہوا یہ انتہائی لاعلمی اور اگر میں کہوں تعصب اور اگر کوئی مہاجر یہ کہہ رہا ہے تو وہی جلنے کڑنے والی بات ہے
شاید کسی کو یاد نہ ہو 1991 االاعظم اسکوائر پہ ایک بہت بہت ہی بڑا جلسہ ہوا تھا جس پر میرے دوست کیپٹن محی الدین نے ہوائی جہاز سے پھول برسائے تھے ۔ الطاف حسین اور نواز شریف ایک ساتھ الاعظم اسکوائر کے اسٹیج پر کھڑے تھے اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ شہراب گوٹھ سے لے کے کماڑی تک مونو ٹرین چلائی جائے گی ۔ مونو ٹرین کا مطلب تھا جیسے ابھی مونٹریال میں ریم چل رہی ہے یا بینک اوور میں اس کا ٹرین اور دور جانے کی ضرورت کیا ہے لاہور میں میٹرو ٹرین ۔
اگر وہ منصوبہ بن جاتا تو کراچی کپ کا کتنا اگے بڑھ چکا ہوتا لیکن اس جلسے کے چند مہینے بعد اس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف اپریشن شروع کر دیا
اور یہ کوئی ایسا ویسا اپریشن نہیں تھا جیسا عمران خان جیل میں روتا رہتا ہے بلکہ یہ اپریشن خون آشام اپریشن تھا جس میں مہاجروں کی نسل کشی کی انتہا کی گئی
اور یہ اپریشن کسی نہ کسی شکل میں اج تک جاری ہے
اس کے باوجود یہ جو شهراب گوٹھ سے لے کر تین ہٹی تک سگنل فری روڈ چل رہے ہیں ، یہ لیاری ایکسپریس وے جو 17 منٹ میں سہراب گوٹ سے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر پہنچا دیتی ہے ، کریم اباد کا شاندار فلائی اوور جو اس دور میں پاکستان کا سب سے بڑا فلائی اوور تھا
یہ کس کے منصوبے تھے یہ ماس ٹرانزٹ منصوبہ ایم کیو ایم کا تھا جس کے تحت سرکلر ریلوے کے ہر اسٹیشن سے بسیں چلائی جانی تھی ۔
حیدراباد میں یونیورسٹی کے لیے ایم کیو ایم نے جب بھی کوشش کی اس پر نسلی فسادات تھوپ دیے گئے یاد کریں قادر مگسی نے جب 30 ستمبر کو حیدراباد کے مہاجروں پر حملہ کیا تھا 1988
ایم کیو ایم کو تو سانس ہی لینے نے نہیں دی گئی اس کے باوجود بھی جو بھی پروجیکٹ ہیں جو بھی اج کل پروجیکٹ کی ٹائم لائنز ہیں یہ سب ایم کیو ایم کے اچھے دور کی یادگاریں ہی ہیں
اور اب بھی جو کچھ ہو رہا ہے پوری طرح پیپلز پارٹی کر رہی ہے تو اس کے مشکور ہیں لیکن یہ بھی ایم کیو ایم کی ہی بنائی ہوئی سکیمیں ہیں
کیونکہ اس وقت جو گروپ ایکٹو ہیں ان میں ہمارے 1980 کی بعد کے پیدا ہونے والے بچے شامل ہیں جو کہ ہمارے بچے تو نہیں لیکن ہمارے چھوٹے بھائیوں کے جیسے ہیں ۔ ان کی معلومات کافی محدود ہیں کیونکہ مطالعہ اب ہو نہیں رہا کتابیں لکھی جانہیں رہیں لائبریریوں میں جا کر پڑھنے کی روایت نہیں ہے تو لہذا وہ سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور کیونکہ موجودہ حالات میں ان کے اخراجات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ تنخواہوں میں شاید گزارے نہیں ہو رہے ہیں ۔ تو وہ فرسٹریشن ان کو یہ سب کہنے پہ مجبور کرتا ہے کہ مہاجروں کی لیڈرشپ نے کچھ نہیں کیا حالانکہ مہاجروں کی لیڈر شپ کو کام ہی کرنے نہیں دیا گیا
جو سینیئر لوگ ہیں سچے دل سے سینے پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں اگر ایم کیو ایم کو 1991 کے بعد کام کرنے دیا جاتا رہا وہ مونو ٹرین بن جاتی تو اس کے جیسے کیسے بڑے منصوبے ہوتے یقینی طور پہ کراچی ہانگ کانگ یا سنگاپور بن چکا ہوتا ۔
لیکن بدقسمتی سے کراچی سے جلنے کڑنے والے غیر مقامی تو ہیں لیکن خود مہاجروں میں بھی ایک طبقہ پایا جاتا ہے جس کا مقصد پہلے دن سے ہی مڈل کلاس قیادت کو معتون کرنا تھا ۔
پھر بھی میں بار بار کہتا ہوں میں پنجاب سے محبت کرتا ہوں لاہور میرے دل میں رہتا ہے لیکن لاہور کو بھی میں میٹروپولیٹین شہر نہیں مانتا کراچی سے لاہور ابھی 20 گنا پیچھے ہے
بے شک میٹرو ٹرین چل رہی ہے بے شک بی آر ٹی ہے لیکن اس کے باوجود جو کراچی ہے اس کی جو شان ہے اس کی جو شوکت ہے اس کی جو چمک ہے اس کی جو دمک ہے اور اج بھی اس کی ٹرانسپورٹیشن لاہور سے بہت تیز ہے
ہاتھ کنگن کو ار سی کیا
جس کو میری یہ تحریر پڑھ کر اس بات کا اندازہ نہ ہو تو وہ اپنی پہلی چھٹیوں میں پاکستان جائے تو لاہور خوب گھومے اور لاہور کے بعد کراچی ا کر صرف شارہ فیصل پہ کھڑا ہو کر ایئرپورٹ کی طرف دیکھے اور پھر دوسری طرف بندرگاہ کی طرف دیکھیں تو اسے لگے گا وہ سنگاپور میں کھڑا ہے ۔
کراچی میں بہت مسئلے ہیں ہمیشہ سے رہے ہیں کراچی کی طرف سندھ حکومت کی توجہ ہمیشہ صرف لوٹنے کھسوٹنے کی رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ لیکن کچھ کام کراچی کے لوگوں کو خود بھی کرنا چاہیے اپنے علاقے کی صفائی اپنے علاقے میں ٹرانسپورٹ کی حفاظت ٹریفک سگنل کا احترام
رونگ سائیڈ ڈرائیونگ سے گریز بھلے اس سلسلے میں لمبا راستہ طے کرنا پڑ جائے ۔ معروف ریسٹورنٹ اور فوڈ استریٹز کے سامنے تین تین لائن کی پارکنگ نہ کی جائے
گھروں کو ہر دوسرے دن دھلوا کر ایک تو پانی ضائع نہ کیا جائے اور اس کے علاوہ سڑک پر پانی کو نہ بہایا جائے ۔
یہ سب کچھ خود شہریوں کے کرنے کا ہے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ اگر کراچی شہر کو دودھ نہیں پلائیں گے اور اس کو مردہ رکھیں گے تو اس سے پوری پاکستان کی معیشت متاثر ہوگی ۔ اور شاید ہو بھی رہی ہے ۔ ایک مضبوط کراچی ہی پورے پاکستان کی استحکام کی ضمانت ہے یہ چیزیں پہلے بھی ثابت کی جاتی رہی ہیں اور اج بھی پاکستان کی دگرگوں حالت کا سبب کراچی میں سیاسی امن کا فقدان ہے یہاں کی مقبول سیاسی جماعت کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے لیکن اس کے نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوا اج بھی کسی شخص سے پوچھ لیں کہ وہ بتائے کہ ان 2016 میں الطاف حسین کو ڈمپ کرنے سے پہلے کراچی اچھا تھا یا اج اچھا ہے















Post your comments