پچھلے ہفتے سرِراہ ملاقات ہوئی تو اُنکی حالت دیکھ کر لگا جیسے ابھی ابھی کسی ٹریڈنگ ایپ سے نہیں بلکہ میدانِ جنگ سے واپس آئے ہوں۔ آنکھیں لال، بال ایسے بکھرے جیسے گراف کی لائنیں ہوں، اور ہاتھ میں موبائل یُوں پکڑا ہوا جیسے زندگی کی آخری اُمید ہو۔ مجھے دیکھتے ہی بولے، ’’بھائی صاحب، جلدی بتائیں کون سا کوائن اوپر جائے گا؟‘‘ میں نے اُن کے چہرے کی ویرانی دیکھی اور نہایت سنجیدگی سے کہا، ’’کوائن کا تو نہیں معلوم، لیکن آپکا بلڈ پریشر یقیناً اوپر جا رہا ہے۔‘‘
یہ سُن کر اُنہوں نے مجھے ایسے گھُورا جیسے میں نے اُن کے پورٹ فولیو پر ذاتی حملہ کر دیا ہو۔ کہنے لگے، ’’آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے، یہاں بٹ کوائن گر رہا ہے اور میرا دِل بھی ساتھ ہی ڈوب رہا ہے!‘‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئے ٹریڈرز گراف کی ہر لکیر کو اپنی قسمت کی لکیر سمجھ لیتے ہیں۔ لائن نیچے جائے تو یہ خود کو تباہ حال، اور ذرا اوپر جائے تو خود کو عالمی سرمایہ کاروں کا چچا زاد بھائی سمجھنے لگتے ہیں۔
آن لائن ٹریڈنگ کا سب سے بڑا ’’فائدہ‘‘ یہ ہے کہ بندہ گھر بیٹھے بغیر کسی جسمانی مشقت کے تیزی سے ’’بوڑھا‘‘ ہو سکتا ہے۔ مرزا صاحب اب رات کو سوتے نہیں بلکہ ریٹ دیکھتے ہیں۔ اُن کی بیگم فرماتی ہیں کہ وہ نیند میں بھی ’’سٹاپ لاس لگا دو!‘‘ اور ’’مارکیٹ بریک آؤٹ کر گئی!‘‘ جیسے نعرے لگاتے ہیں۔ ایک دِن سالن میں نمک کم نکلا تو غصہ کرنے کے بجائے فرمانے لگے، ’’بیگم، نمک ابھی ڈِپ میں ہے، تھوڑا اور ہولڈ کریں!‘‘
مرزا صاحب جیسے سادہ دِل سرمایہ کاروں کو یہ کون سمجھائے کہ یہ کوائنز کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ یہ وہ بے وفا محبوب ہیں جو ایک لمحے میں عرش سے فرش تک لا پٹخ دیتے ہیں۔ کل تک جو کوائن ’’چاند پر جا رہا تھا‘‘ آج وہ زمین میں سوراخ کرتا دِکھائی دیتا ہے۔ پچھلے مہینے اُنہوں نے ایک ایسا کوائن خریدا جس کا نام سُن کر بھی کتے کو حیرت ہو جائے۔ اب حالت یہ ہے کہ وہ گلی کے ہر کتے کو دیکھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی پرانا سرمایہ یاد آ گیا ہو۔
ٹریڈنگ کے اس کھیل میں بلڈ پریشر کا بڑھنا دراصل وہ مفت بونس ہے جو ہر سرمایہ کار کو ملتا ہے۔ جیسے ہی سکرین پر لال رنگ چھاتا ہے، انسان کو اپنا مستقبل بھی لال بتی دکھاتا محسوس ہوتا ہے۔ مرزا صاحب اب ایک ہاتھ میں موبائل اور دُوسرے ہاتھ میں بی پی مشین رکھتے ہیں۔ کوائن دو فیصد گرے تو اُن کا پریشر بیس پوائنٹ اوپر، اور اگر پانچ فیصد گرے تو لگتا ہے ڈاکٹر کو بھی الرٹ مل جاتا ہوگا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اِن تمام مصیبتوں کے باوجود مرزا صاحب پراُمید ہیں کہ ایک دِن ’’جیک پاٹ‘‘ ضرور لگے گا۔ مَیں نے پوچھا، ’’یہ جیک پاٹ گھر میں لگے گا یا سیدھا ہسپتال کے بیڈ پر؟‘‘ حقیقت یہ ہے کہ جس کام میں سکون غائب ہو جائے، وہ کاروبار نہیں بلکہ مہنگی قسم کی پریشانی ہے۔ ٹریڈنگ کریں ضرور، مگر اتنی ہی جتنی آپ کی شریانیں برداشت کر سکیں، ورنہ منافع سے پہلے آپ خود ہی ’’کلوز‘‘ ہو سکتے ہیں۔
آخر میں اُنہیں مشورہ دیا کہ حضور، واپس اپنی دکان سنبھال لیں۔ کپڑے کے تھان کم از کم گودام میں موجود تو ہوتے ہیں، غائب تو نہیں ہوتے۔ یہ ڈیجیٹل کوائنز تو ایسی پریاں ہیں جو صرف سکرین پر ناچتی ہیں اور جیب خالی ہوتے ہی جادو کی طرح غائب ہو جاتی ہیں۔ مرزا صاحب نے لمبی سانس لی، سر ہلایا، اور پھر فوراً موبائل پر جھک گئے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ اگلی’’ڈِپ‘‘ کا انتظار کر رہے ہیں… اور میں اُن کے اگلے بلڈ پریشر کے ریڈنگ کا!










Post your comments