ایرانی ثالثوں کی 45 دن کی جنگ بندی کے لیے آخری کوشش، امریکی ویب سائٹ

ایرانی ثالثوں نے 45 دن کی جنگ بندی کے لیے کوشش تیز کردی ہے۔

امریکی ویب سائٹ نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی کی شرائط پر بات کر رہا ہے جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکا ایران کے پاور پلانٹ اور پُل اڑا دے گا۔

امریکی صدر نے نئی دھمکی دیتے ہوئے پرانی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع بھی کی اور کہا کہ ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی، ہم انکی زندگی جہنم بنادیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی جانے والی ڈیڈلائن کا وقت منگل رات 8 بجے ایسٹرن ٹائم جاری کر دیا، جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے ہے۔

روس نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو الٹی میٹم کی زبان ترک کر دینی چاہیے۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ امریکا کو صورت حال کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مذاکرات کے راستے پر واپس لانا ہوگا، امید ہے ایران تنازع کم کرنے کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔

سرگئی لاروف نے مزید کہا کہ فریقین کو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

اس سے پہلے چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ وانگ ای نے کہا کہ آبنائے ہُرمز کے بحری راستے کی بحالی جنگ بندی سے ہی ممکن ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *