وہ 2012 کے گرمیوں کے دن تھے جب اچانک مانٹریال کی بلو ہیون
مسجد کا کے دروازہ کھلا اور مغرب کی نماز کے وقت ایک لڑکا مسجد میں داخل ہوا کم عمر معصوم لگ رہا تھا ہم میں سے کسی نے اس کو پہچانا نہیں ، اس نے نماز مغرب ادا کی بعد میں نماز عشا میں بھی نظر ایا اگلے دو روز میں جب معلوم کیا تو پتہ چلا اس کا نام طهٰ ہے اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ کچھ عرصہ قبل مانٹریال آئے ہیں اور یہاں قریبی مسجد کو ڈھونڈتا ہوا پہنچا ہے ۔ مذہبی رجحان لگ رہا تھا اس لیے میں نے پوچھا تم تو جماعت بھی کرا سکتے ہو کہنے لگا ہاں کیوں نہیں میں جماعت سے نماز پڑھا سکتا ہوں اور میں نے پڑھائی بھی ہے ۔ یہ طهٰ سے پہلا تعارف تھا اس کے بعد مسجد میں مسلسل اتا رہا اور ہم نے اپنے مدرسے کا انتظام اس کے حوالے کر دیا اور اس نے انتہائی خیر و خوبی کے ساتھ اس کو چلایا تقریبا سات اٹھ بچے اس سے پڑھتے تھے جس میں میرا بچہ بھی شامل تھا ۔ اور مجھے خوشی تھی کہ میرا بچہ بھی بڑی خوشی کے ساتھ ویک اینڈ پہ مسجد جایا کرتا تھا اور طهٰ کو پسند کرتا تھا میں نے اس سے پوچھا کیا طهٰ ٹوفیاں وغیرہ دیتا ہے تو پتہ چلا ہاں واقعی وہ بچوں کو خوش بھی رکھتا ہے اور اچھا سبق یاد کرنے پر انعام بھی دیتا ہے ۔ اس عرصے میں مسجد کی جانب سے میلاد النبی یا نعتوں کے پروگرام بھی ہوئے اور اس میں اس نے خصیدہ بردہ شریف اور دیگر نعتیں پڑھی اور اس کے نعتیں پڑھنے سے اس سے پڑھنے والے بچوں میں بھی نعتوں کا شغف پیدا ہوا اور ان میں سے چند ایک نے بھی نعتیں پڑھنا شروع کی ۔
مسجد میں اتوار کے روز ہونے والا مدرسہ بحسن خوبی چل رہا تھا کہ اتنے میں ہماری مسجد کے ایک پرانے امام دوبارہ منصب پر فائز ہو گئے اور انہوں نے انے کے بعد مدرسے کو خود سنبھالنے کا اعلان کر دیا مدرسے کے ننھے بچوں نے نئے مدرس کے ساتھ پڑھنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے کہا اگر طهٰ ہی پڑھائے گا تو ہم جائیں گے ورنہ ہم نہیں جائیں گے ۔ مولانا صاحب سے درخواست کی گئی کہ اپ مدرسہ طهٰ کے پاس ہی رہنے دیں لیکن وہ اس پر نہ مانے تو ہم نے پورا مدرسہ ہی معمار مسجد عظام قریشی صاحب کی بیٹی کے گھر منتقل کر دیا اور یہ سنڈے مدرسہ اب مسجد سے باہر ہونے لگا لیکن بچے طهٰ سے ہی پڑھتے رہے اور یہیں پڑھتے پڑھتے ان میں سے اکثر نے قران کریم ختم بھی کیا اور بعض نے حفظ کرنے کی تربیت بھی لینی شروع کی ۔ یہ تھا طهٰ فینسیہ جو ہمارے دوست سراج فائنسیہ کا فرزند تھا اور دیار غیر میں جہاں پر نوجوان نسل کو اسلامی اشعار کی طرف لانے میں کافی مشکلات پیش اتی ہیں وہاں پر ایک پڑھا لکھا نوجوان پوری جانثاری کے ساتھ اپنی مذہبی اقدار کی حفاظت کے لیے موجود تھا اور نہ صرف یہ کہ وہ خود ان پر عمل کرتا تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کے دوست اس کے طالب علم سب اس کے ساتھ تھے اور اس سے محبت کرتے تھے ۔
اس کے بعد تو ہم مسجد کی فضاؤں سے بھی باہر اگئے میلاد کونسل اف مانٹریال کے تحت گھر گھر میلاد کیے گئے اور ساتھ ہی ہر ربیع الاول محرم اور مبارک موقعوں پہ اجتماعت کیے گئے اور میں اپ سب کو پورے وثوق کے ساتھ یقین دلاتا ہوں کہ ایسا کوئی پبلک پروگرام نہیں ہوا جو میلاد کونسل نے کیا ہو اور اس میں طهٰ شریک نہ ہو ۔
کیونکہ ہمیشہ ان پروگراموں کا اہتمام میں نے ہی کرنا ہوتا تھا اور میرے ذہن میں صرف یہ ہوتا تھا کہ اگر دو شخصیت دستیاب ہے تو ہمارا پروگرام ہر صورت میں کامیاب ہوگا وہ تھی عظام قریشی اور طهٰ کیونکہ اگر کوئی بھی مقرر ہمیں دستیاب نہ ہو کوئی بھی نعت خواں ہمیں دستیاب نہ ہو ہمارے پاس عظام قریشی کی شکل میں ایک منفرد مقرر اور طهٰ کی شکل میں ایک نعت خواں موجود تھا اور اس کے ذریعے ہم اپنی میلاد کی محفل کو مکمل کر سکتے تھے ۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا 2012 سے لے کر 2025 کے جلسے عید میلاد النبی تک جو پوائنٹ کلیئر کے چرچ میں منعقد ہوا ہر پروگرام میں طهٰ موجود تھا اور طهٰ کی وجہ سے ہی وہ پروگرام کامیاب ہوئے اور میری سب سے پہلی طلب جو ہوتی تھی وہ طهٰ کی موجودگی ہوتی تھی اور صرف طهٰ گی موجودگی ہی نہیں بلکہ اس کا اڈیو سسٹم بھی پچھلے سات سال سے ہمارے ساتھ چل رہا ہے سب سے پہلے میرا فون طهٰ کو ہوتا تھا کہ فلاں تاریخ کو سسٹم لے کے پہنچ جانا ۔
اور طهٰ نے ایک مرتبہ کبھی ایسا نہیں کہا کہ اس مرتبہ مجھے کام ہے یا اس مرتبہ میں کہیں جا رہا ہوں یا اس مرتبہ میری کوئی مصروفیت ہے اس نے ہر پروگرام کو اپنے پروگرام کے طور پر لیا میں جانتا ہوں کہ وہ حب رسول سے سرشار تھا اس عمر کے نوجوانوں کے اندر رسول کریم سے محبت کا ایک ایسا نمونہ تھا جو ہم بار بار اپنے بچوں کو بتایا کرتے تھے کہ تمہارے اندر بھی عشق رسول اور اسلام سے محبت ایسی ہی ہونی چاہیے ۔
صحت کے معاملے میں کچھ اونچ نیچ چلتی رہتی تھی ہمارے عظام قریشی صاحب اس معاملے میں بہت حساس تھے انہوں نے کچھ محسوس کیا تھا اس لیے وہ ہر دعا میں طهٰ کی صحت کے لیے دعا کرتے تھے ایک مرتبہ طهٰ نے مجھ سے کہا ظفر بھائی اپ قریشی صاحب سے کہیں کہ یہ میرا نام لے کے اس طرح نہ کہا کریں میں نے کہا کیا ہو گیا اس میں کیا حرج ہے اس نے کہا نہیں پھر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہو گیا ہے کیا ہو گیا ہے ۔ یہ بڑی واجب بات تھی کوئی ایسی سنگین بیماری بھی لاحق نہیں تھی قریشی صاحب ذرا حساس تھے ان کو میں نے منع کیا تو انہوں نے پھر اس طرح سے دعا نہیں کی لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کتنا مظبوط تھا اور اپنے اپ کو ایک مضبوط شخصیت کے طور پر منوانا چاہتا تھا اور اس میں وہ ہمیشہ کامیاب رہا
میرا اس سے کوئی بچوں اور بڑوں کی طرح کا رابطہ نہیں تھا بلکہ دوستوں کی طرح تھا وہ مجھے ظفر بھائی ہی کہتا تھا اور ہم دونوں مل کے کبھی کبھار کسی جلسے یا کسی پروگرام میں پچھلی سیٹوں پہ بیٹھ کے مقررین کے بالیں بارے میں معمولی سی فقرہ بازی بھی کر لیا کرتے تھے ۔ تکنیکی اور دنیاوی معاملات میں بھی وہ بہت قابل تھا میں نے خود اپنی گاڑی کی لیز کے سلسلے میں اور اس کی ویر اینڈ تیر انشورنس کے سلسلے میں جن جن کے مشورے پہ عمل کیا اس میں
سر فہرستہ طهٰ ہی ہے ۔
جب ہم نے جنگ ماؤنٹریل اخبار کا اغاز 2016 میں کیا تو اس کی افتتاحی تقریب کے وقت طهٰ کی طبیعت زیادہ اچھی نہیں تھی وہ موبائل اکسیجن ماسک استعمال کر رہا تھا لیکن اس کے باوجود وہ خود گاڑی ڈرائیو کر کے ایئرپورٹ کے پاس مقامی ہوٹل میں پہنچا اور اس نے ہماری تقریب میں نعت خوانی سے اغاز کیا اس وقت میں بہت حیران ہوا تھا کہ طهٰ تم خود گاڑی چلا کے ائے ہو اس نے کہا ہاں کیا فرق پڑتا ہے ۔ کبھی کبھی مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتا تھا کہ میں کبھی مدینے جا کر وہاں نبی کریم کے روزے پہ بھی نعتیں پڑھ سکوں اور جو مجھے یقین ہے اس کو موقع ملے اور وہ بار بار گیا شاید چند ماہ پہلے بھی وہ مدینے کا سفر کر چکا تھا اللہ تعالی نے اس کو یہ موقع بار بار دیے
اس کا خاندان مالی طور پر اسودہ حال ہے ان کا کراچی میں ایک مدرسہ قائم ہے اور مونٹریال میں بھی ان کا بزنس ہے اس بزنس کی دیکھ بھال میں طهٰ مصروف رہا کرتا تھا میرا اس کے بزنس سے اتنا ضرور تعلق تھا کہ جب کوئی چاول کا سیمپل اتا تھا تو میں اس سے کہتا تھا اگر ایا تو مجھے بھیج دو تو سیمپل مجھے مل جایا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سال سے ہمارے عید میلاد النبی کے پروگراموں میں کھانوں کا اہتمام بھی طهٰ اور ان کے والد کی طرف سے ہوا کرتا تھا اور صرف کھانوں کی فراہمی نہیں بلکہ اس کا انتظام بھی طهٰ اور اس کے دوستوں کے سپرد ہوتا تھا اس طرح میری ذمہ داری میں بہت بڑی اسودگی ہو جایا کرتی تھی
پچھلے سال جب میں پاکستان میں تھا شاید اپریل یا مئی کا مہینہ تھا تو وہاں طهٰ کے والد سراج صاحب سے بھی میری ملاقات ہوئی ہم لوگ مفتی منیب الرحمن صاحب کے پاس عظام قریشی صاحب کی فاتحہ کے سلسلے میں گئے تھے وہاں سے سراج صاحب نے بتایا کہ طهٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور شاید وہ اگلے ہفتے مونٹریال جا رہے ہیں میرا ان سے پہلے مانٹریال جانے کا پروگرام تھا لیکن میں ایک اہم چیز مانٹریال میں بھول گیا تھا لہذا میں نے کراچی ایئرپورٹ سے سراج صاحب کو فون کیا کہ فلاں چیز اپ لیتے ہوئے ائیں تو انہوں نے بتایا میں تو دوہا ایئرپورٹ پہ بیٹھا ہوا ہوں کیونکہ مانٹریال میں طهٰ کی طبیعت خراب ہے اور مجھے پہنچنا ہے اس وقت مجھے بہت تشویش ہوئی کہ اخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ سراج صاحب کو اچانک نکلنا پڑا لیکن جب میں مونٹریال پہنچا تو پتہ چلا کہ طهٰ کی طبیعت بہتر ہے اور کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور اس کے دو چار ماہ بعد ہمارا عید میلاد النبی کا پروگرام گزشتہ سال منعقد ہوا اور اس میں طهٰ نے اخری مرتبہ شرکت کی ۔ طهٰ کی طبیعت بظاہر درست نظر ارہی تھی لیکن وہ نعت بیٹھ کر پڑھنا چاہ رہا تھا اس سے میں نے محسوس کیا کہ طبیعت کچھ ناساز ہے اس لیے میں نے دو نعتوں تک محدود رکھا لیکن پروگرام کے اخر میں طهٰ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک اور نعت پڑھ سکتا ہوں لیکن افسوس وہ نعت نہیں پڑھ سکا کیونکہ پروگرام تقریبا ختم ہو چکا تھا
کاش میں وہ نعت بھی اس سے پڑھو لیتا تو اس کی زندگی میں ایک نعت کا اور اضافہ ہو جاتا حالانکہ اس نے جتنی نعتیں پڑھی ہیں وہ اس کی بخشش اس کی مغفرت اس کے والدین کی مغفرت اور ہم سب کی مغفرت کے لیے بہت ہیں
مجھے یقین ہے کہ وہ اس وقت جنت کے کسی باغ میں نبی کریم کے سایہ شفقت میں نعتیں پڑھ رہا ہوگا
اللہ تعالی خاص طور پر اس کے والدین اس کے لواحقین کو صبر جمیل کی طاقت سے نوازے











Post your comments