امریکا نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالرز سے زائد کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہنگامی صورتِ حال کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے اور کانگریس کے جائزے کی شرط ختم کر دی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنہیں امریکا یہ اسلحہ فروخت کرے گا ان 4 ممالک میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت شامل ہیں۔
اس معاہدے کے تحت قطر کو 4.01 ارب ڈالرز کے میزائل دفاعی نظام اور 992.4 ملین ڈالرز کے جدید ہتھیار دیے جائیں گے۔
کویت کو 2.5 ارب ڈالرز کا جنگی کمان نظام فراہم کیا جائے گا جبکہ اسرائیل کو بھی 992.4 ملین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالرز کے ہتھیار دیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو 9 ہفتے گزر چکے ہیں اور 3 ہفتے قبل ایک نازک جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔










Post your comments