ٹرمپ کا چین پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام، چین کی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین نے امریکی صدر کے الزام کی تردید کر دی ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ میں نے چینی صدر کو خط میں کہا تھا کہ خبریں ہیں کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، چین ایسا نہ کرے۔

ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر نے انہیں بہت خوب صورت جوابی خط لکھا جس میں چینی صدر نے بتایا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے امریکی نشریاتی ادارے نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع سے خبر دی تھی کہ چین چند ہفتوں میں ایران کو نیا فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے والا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے چین بھی ایرانی تیل حاصل نہيں کر سکے گا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایرانی تیل لے جانے والے چین کے جہازوں کو روکے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوری معاہدے کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران پر دباؤ کے آپشنز بھی برقرار ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پُرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں۔

’فوکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن ملر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، وہ درست راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا اس کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندی سمیت ہر آپشن میز پر موجود ہے کیونکہ صدر ٹرمپ دنیا کے عوام کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم حتمی نتیجہ چاہتے ہیں۔

ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ دیگر ممالک بھی فوجی کارروائی میں شامل ہوں گے، تاحال کوئی ملک شامل نہیں ہوا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق آپریشن مکمل طور پر کامیابی سے جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک مختصر اور نجی عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے نیدر لینڈز کے بادشاہ اور ملکہ کو بتایا کہ میں ایران میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہوں۔

عشائیے پر جن عہدیداروں کو بریفنگ دی گئی، ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے شاہی مہمانوں اور ڈچ حکام کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کا واحد طریقہ اس پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا خطے میں ہزاروں فوجی بھیجنے کا مقصد ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *