ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکا کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے ماہرین اور پینٹاگون کے اندرونی جائزوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ تقریباً 45 فیصد پریسیشن اسٹرائیک میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تھاڈ میزائل اور پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کا بھی لگ بھگ 50 فیصد ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے، تقریباً 30 فیصد ٹوماہاک میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قلیل مدت میں امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ہتھیار موجود ہیں، تاہم چین جیسے بڑے حریف کے خلاف بیک وقت جنگ لڑنے کے لیے موجود ذخیرہ ناکافی ہو سکتا ہے۔
ہرمز ناکہ بندی کے دوران امریکا میں ایک اور بڑی تبدیلی۔ امریکا کے وزیر بحریہ جان سی فیلن کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا گیا۔
فوری استعفیٰ طلب کیے جانے کی وجہ نہیں بتائی گئی ۔ہنگ کاؤ کو قائم مقام سیکریٹری آف نیوی مقرر کردیا گیا۔
اس سے پہلے ایران جنگ کے دوران امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے امریکا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈ جارج کو فوری طور پر مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تھا۔
جان سی فیلن کو 2024 میں صدر ٹرمپ نے وزیر نیوی نامزد کیا تھا۔
اُس وقت جان سی فیلن پر تنقید کی گئی تھی کہ انہیں بحریہ، فوج یا قومی سلامتی پالیسی اور ڈیفنس انڈسٹری سے متعلق تجربہ نہیں۔










Post your comments