کراچی پولیس کو منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مل گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، عدالت کے روبرو آج ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی دوبارہ استدعا کی گئی تھی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی پر ماضی کے مقدمات کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں گارڈن کے علاقے سے کوکین اور منشیات کی بڑی سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور پستول برآمد کی گئی تھی۔
گارڈن کے علاقے میں پولیس اور سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے 1 پستول، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ کراچی میں منشیات بیچنے کے الزام میں گرفتار خاتون کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی ہوئی تھی، ملزمہ بے خوف انداز میں عدالتی راہداریوں میں گھومتی رہی تھی۔
گرفتار ملزمہ کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال،ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو بھی معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ واقعے کی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کر دی گئی تھی۔منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو گزشتہ دنوں سول حساس ادارے نے لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ملزمہ طویل عرصے سے شہر کے پوش علاقوں میں آئس اور کوکین کی فراہمی میں ملوث رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزمہ ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث تھی۔ملزمہ انمول عرف پنکی کوکین، آئیس، ایکسٹیسی اور پارٹی پلز کا دھندہ کرتی تھی۔ ملزمہ نے نشہ آور اشیاء کی فروخت میں استعمال کئے جانے والے باکس پر اپنے نام کی برینڈینگ بھی کروا رکھی تھی۔
منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی۔
ملزمہ کے خلاف درج مقدمے میں بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کو گارڈن میں رہائشی عمارت کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن فلیٹ میں رہائش پذیر خاندان نے موقف اختیار کیا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ جس فلیٹ کا پتہ مقدمے میں ڈالا گیا، وہاں 8 سال سے کرائے پر ہم رہائش پذیر ہیں۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ میڈیا پر ملزمہ کی گرفتاری ہمارے فلیٹ سے ہونے کی خبر آنے پر مالک مکان نے فلیٹ خالی کرنے کا کہہ دیا۔
متاثرہ خاندان نے مزید کہا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے، بتایا جائے کہ پولیس نے ہمارے گھرکا پتہ ایف آئی آر میں کیسے ڈالا؟
متاثرہ خاندان نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہم سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔














Post your comments