اسرائیل کا دفاع برقرار رکھنا مشکل، اپنی زمین کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے، امریکی جنرل

 امریکی یورپی کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوِچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا دفاع برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ بحریہ کے جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) کی شدید کمی کے باعث وہ اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے جاری آپریشن کو برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ اگر مزید ڈسٹرائر فراہم نہ کیے گئے تو انہیں مجبوراََ اسرائیل کے بجائے امریکی سرزمین کے دفاع کو ترجیح دینا پڑے گی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے اس حساس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ امریکی یورپی کمانڈ کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان سے بھی اس حوالے سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ انتباہ ایک نہایت نازک مرحلے پر سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ 5 ماہ سے جاری کشیدگی میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔

اس صورت حال کے نتیجے میں امریکی دفاعی وسائل، خصوصاً اہم دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر، تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت بحیرہ روم میں دو امریکی ڈسٹرائرز ،یو ایس ایس پال اگناٹیئس اور یو ایس ایس روزویلٹ تعینات ہیں، جب کہ اسپین کے روٹا بیس پر مزید 3 ڈسٹرائرز موجود ہیں۔

اس کے علاوہ بحیرۂ عرب میں 2 طیارہ بردار جہازوں سمیت کم از کم 15 دیگر جنگی جہاز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

تاہم جنگ کی تیز رفتار شدت کے باعث ان جہازوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے جنرل گرینکیوِچ کو درپیش آپریشنل مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس تنازع میں اسرائیل کو درپیش بیلسٹک میزائل خطرات کو ناکام بنانے کا بڑا بوجھ امریکی افواج نے اٹھایا ہے، جس کے باعث نہ صرف جنگی ذخائر متاثر ہوئے ہیں بلکہ فوجی تیاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مئی میں کیے گئے پینٹاگون کے ابتدائی جائزوں سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ اسرائیل کے دفاع میں امریکی نظام، بشمول جدید میزائل دفاعی ٹیکنالوجی، اسرائیلی نظام کے مقابلے میں زیادہ استعمال ہوئے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *