امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام کی لاگت سے متعلق نئی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر آئندہ 20 برس میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالرز خرچ ہونے کا امکان ہے، جو ابتدائی اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
امریکی کانگریشنل بجٹ آفس کی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ برس اس منصوبے کی لاگت تقریباً 175 ارب ڈالرز بتائی تھی، تاہم اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اصل اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
گولڈن ڈوم منصوبہ اسرائیل کے مشہور آئرن ڈوم طرز کے دفاعی نظام پر مبنی ہو گا، جس کا مقصد دشمن کے میزائل حملوں کو فضا میں ہی شناخت کر کے تباہ کرنا ہے، منصوبے میں خلاء میں ہتھیار نصب کرنے جیسے جدید دفاعی اقدامات بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی کانگریس اب تک اس منصوبے کے لیے تقریباً 24 ارب ڈالرز کی منظوری دے چکی ہے، ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی ہفتے میں اس منصوبے کی تنصیب کا حکم دیا تھا اور ان کی خواہش ہے کہ یہ نظام جنوری 2029ء میں ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے فعال ہو جائے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی لاگت امریکی بجٹ پر بھاری دباؤ ڈال سکتی ہے، جبکہ ناقدین اس منصوبے کو انتہائی مہنگا اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے امریکی معیشت اور سیاست دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 74 دنوں میں ایران کے خلاف جنگ پر امریکا کم از کم 29 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے، جبکہ یہ رقم صرف اسلحے اور فوجی ساز و سامان کی مد میں خرچ ہوئی ہے، فوجی اڈوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک بار پھر کانگریس سے دفاعی اخراجات کے لیے مزید 1.5 ٹریلین ڈالرز مانگ لیے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر فوجی طاقت برقرار رکھنے کے لیے امریکا کو یہ بجٹ درکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن اراکین بڑی حد تک اس مطالبے کے حامی ہیں، تاہم ڈیموکریٹس نے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
اس دوران رائٹرز کے ایک نئے سروے نے بھی حکومت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
سروے کے مطابق دو تہائی امریکی شہری پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں لوگوں نے کہا ہے کہ ہم ایران جنگ سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ امریکا کے پاس اب بھی کئی فوجی آپشنز موجود ہیں، جن میں کشیدگی میں مزید اضافہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بقول ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔














Post your comments