نقوی کا ’’تباہ حال نظام‘‘ کا بیان انتظامی یونٹس کے قیام کی سوچ کی ترجمانی تھا، ذرائع

اسلام آباد :باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جمعرات کے روز دیا گیا متنازع بیان دراصل ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کیلئے مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بااثر حلقوں کی سوچ کی ترجمانی تھا۔

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان اکنامک سمٹ 2026ء سے خطاب میں یہ کہنے کے ایک روز بعد کہ ملک کا نظامِ حکمرانی ’’تباہ ہو چکا ہے‘‘ اور سیاسی جماعتوں پر زور دینے کے بعد کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کریں، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ان کے اس بیان کے اصل مفہوم کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔

 محسن نقوی، جو وفاقی کابینہ کے رکن ہیں، نے غیر معمولی طور پر دوٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ’’نظام‘‘ ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تبدیلی نہ لائی گئی تو آئندہ 10؍ برس بعد بھی پاکستان انہی مسائل پر بحث کر رہا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس، یعنی عملاً نئے صوبوں، کے قیام کا معاملہ براہِ راست ’’عوام‘‘ کے سامنے رکھا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مبینہ طور پر روزانہ 18؍ سے 20؍ گھنٹے کام کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ انداز مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ محض ’’آگ بجھانے‘‘ کی کارروائی کے مترادف ہے۔

 ان ریمارکس کے بعد اسلام آباد کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں مختلف اندازے لگائے جانے لگے۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ گویا ایک وفاقی وزیر نے عوامی سطح پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی اپنی ہی حکومت کا نظام مؤثر کام نہیں کر رہا، جسے سول حکومت پر ایک غیر اعلانیہ عدم اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔

 اس سے بھی زیادہ نمایاں تشریح یہ کی گئی کہ یہ بیان راولپنڈی میں عسکری اسٹیبلشمنٹ اور اسلام آباد میں وزیراعظم کے دفتر کے درمیان بڑھتے فاصلے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جی ایچ کیو سول حکومت کی کارکردگی کی رفتار سے مطمئن نہیں۔ تاہم اس معاملے سے باخبر ایک اہم ذریعے نے، جس سے اس رپورٹ کے سلسلے میں رابطہ کیا گیا، اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا۔

 جب اس سے پوچھا گیا کہ آیا محسن نقوی کا بیان راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان کسی اختلاف یا دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے تو اس نے جواب دیا، ’’بالکل نہیں۔‘‘ ذریعے نے مزید کہا کہ محسن نقوی صرف انتظامی یونٹس کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتظامی یونٹس کے بارے میں محسن نقوی کے ریمارکس اختلافِ رائے کا اظہار نہیں بلکہ ایک مخصوص پیغام رسانی کا حصہ ہیں۔

 مبصرین کے مطابق، یہ ایک دانستہ کوشش ہے جس کا مقصد متعلقہ حلقوں اور عوام تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے قائم کیے جانا چاہئیں۔ یہ مؤقف اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کی اسٹیبلشمنٹ بھی ایک عرصے سے مسلسل حمایت کرتی رہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا موجودہ صوبائی ڈھانچہ مؤثر طرزِ حکمرانی کیلئے حد سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو چکا ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے اور زیادہ تعداد میں انتظامی یونٹس مقامی سطح پر عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو محسن نقوی کا خطاب حکومتی مؤقف سے انحراف نہیں بلکہ اس ترجیح کی توثیق تھی، جسے اسٹیبلشمنٹ طویل عرصے سے اختیار کیے ہوئے ہے، اور یہ پیغام ایک ایسے فورم سے دیا گیا جہاں سے اس کی پہنچ وسیع پیمانے تک جا سکتی تھی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *