قطر نے تصدیق کی ہےکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر دوحاپہنچ گئے ہیں جہاں ان کی قطری ثالثوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں تاہم ایران اور امریکا کے درمیان فی الوقت کوئی اعلیٰ سطح ملاقات نہیں ہو رہی۔قطر نے منجمد چھ ارب ڈالر تہران کو منتقل نہیں کیے ہیںجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہےکہ دوحامیں آج ایرانی اورقطری حکام کی ملاقات کے دوران منجمد فنڈز پر بات چیت کی جائے گی۔ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کیلئے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں ‘ اس سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے ‘کسی بھی جارحیت کا بھرپوراورفیصلہ کن جواب دیاجائیگا‘ ایران کے قائم مقام وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن رضانے خبردار کیا ہے کہ انہیں دشمن پر اعتماد نہیں ہے اورجنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ہماری انگلی ٹریگر پر موجود ہے‘ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیاہے کہ واشنگٹن سے مذاکرات سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی کے تحت آگے بڑھےہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یو کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ لبنان،ایران،امریکا،لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔
اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
قطر نے ایران کے 6 ارب ڈالر تہران منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کردی۔
دوحہ سے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق یہ رقم ایران کی جنوبی کوریا میں منجمد تیل کی آمدنی ہے، 6 ارب ڈالر 2023 کے امریکا ایران قیدی تبادلے کے معاہدے کے تحت قطر منتقل ہوئے۔
قطری ترجمان کے مطابق امریکا ایران کے درمیان 5-5 قیدیوں کے تبادلےکے بعد رقم جنوبی کوریا سے قطر منتقل کی گئی۔ امریکی شہریوں کی رہائی کے باوجود رقم ابتک ایران کے حوالے نہیں کی گئی۔
رجمان نے قطر کی جانب سے واضح بیان میں کہا کہ ایرانی فنڈز قطر کے بینکس میں موجود ہیں اور امریکی پابندیوں کے تحت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو 6 ارب ڈالر تک براہ راست رسائی حاصل نہیں، ایرانی صدر کے اعلان کے باوجود منجمد فنڈز کی تہران منتقلی تاحال نہیں ہوئی۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی فنڈز قطر کی ملکیت نہیں بلکہ ایران کے اثاثے ہیں، ایرانی فنڈز کے استعمال اور منتقلی پر اب بھی امریکی نگرانی برقرار ہے۔















Post your comments