ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ’ہتھیار ڈالنے کی میز‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد ایران نے مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی دفتر خارجہ ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایٹمی مواد کی منتقلی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہے۔
قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری پہلی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پر تاریخی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
جنگ بندی ختم ہونے کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی ایران میں حکومت کے حق میں مظاہروں میں تیزی آگئی، مظاہروں کے دوران اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں۔
خرم آباد شہر کے مغربی علاقے میں ایرانی حکومت اور افواج کے حق میں بڑی ریلی نکالی گئی جس میں خواتین بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئیں۔
ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کو صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی دھمکی سامنے آنے کے بعد ایران میں مظاہروں کے دوران اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں۔
اصفحان میں کیے گئے مظاہرے میں ایسی برقعہ پوش خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی جو خود کو کلاشنکوف اور راکٹ لانچروں سے لیس کیے ہوئے تھیں۔










Post your comments