اسرائیل نئے ریجنل آرڈر کے لیے تیار ہوجائے، جنرل اسماعیل قانی

پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ اسرائیل نئے ریجنل آرڈر کے لیے تیار ہوجائے۔

اپنے بیان میں جنرل اسماعیل قانی نے کہا کہ نتین یاہو خواب دیکھ رہا تھا کہ خطے میں سیکیورٹی بیلٹ کو وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی حزب اللّٰہ نے شمال اور یمن کی انصار اللّٰہ نے جنوب سے آگ برسا کر یہودی آبادکاروں کو دیا گیا تحفظ کا جھوٹا وعدہ آشکار کردیا ہے۔

جنرل اسماعیل قانی کا کہنا ہے کہ شہید کمانڈروں کی امنگیں پوری ہوگئیں اور محاذ اب ایک بن چکا ہے اسلیے اسرائیلی دشمن کو اب اس نئے علاقائی نظام کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔

دبئی پورٹ پر ایران کی جانب سے حملے میں بڑے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔

کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملے کے بعد متاثرہ آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، جانی نقصان نہیں ہوا۔

کویت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ آئل ٹینکر سے اردگرد کے پانیوں میں تیل کا اخراج ہوسکتا ہے۔

ادھر یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق واقعہ سمندرمیں دبئی سے 31 ناٹیکل میل شمال مغرب میں پیش آیا۔

آئل ٹینکر کے اگلے حصے کی جانب آگ لگی ہے، واقعے میں کوئی ماحولیاتی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب کا احترام کرتا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہماری کارروائیاں دشمن جارح قوتوں کے خلاف ہیں۔

جارح دشمن نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں نہ ایرانیوں کا، نہ وہ سیکیورٹی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذرا دیکھیں کہ ہم نے ان کی فضائی کمان کے ساتھ کیا کیا۔

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فورسز کا خطے سے نکلنے کا وقت آگیا ہے۔

تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد مشرقی تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مشرقی تہران میں بجلی کی فراہمی بحال ہو گئی ہے۔

تہران میں متعدد دھماکوں کے بعد کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے شہر اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی حکام نے کہا کہ امریکا نے اصفہان میں 2000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے۔

دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *