سفر جاری ہیں تحریر ۔۔۔۔ ظفر محمد خان

لزبن پر پہلی نگاہ 

اج کل جنگ کی وجہ سے لوگ سفر کچھ کم کر رہے ہیں اس لیے ایئرپورٹ پہ سناٹا نظر اتا ہے حالانکہ جہازوں میں جاؤ تو وہ مکمل بھرے ہوئے نظر اتے ہیں
ایئرپورٹ انتہائی جدید تو ہے لیکن جس وقت ہم پہنچے رات کے پونےگ بج رہے تھے تو کافی سناٹا تھا ۔ شاید یہاں لندن اور مونٹرل کی طرح رات کو کرفیو نافذ ہوتا ہے یعنی رات کو پروازیں نہیں اترتی ۔
رات کے سناٹیں گے پورا شہر گاتھک  اسٹائل کا روشن مگر خاموش سناٹے کے ساتھ خوبصورت لیکن پراسرا شہر  نظر ا رہا تھا ۔
ٹیکسی ڈرائیور بظاہر کوئی سٹائلش پرتگزی نظر ا رہا تھا لیکن میں نے جانچ لیا کہ وہ اپنے ہی بھائی ہے اور بہت جلد اس کے ساتھ اردو میں گفتگو شروع ہو گئی ۔ اس نے بتایا کہ یہاں اس وقت لاکھوں دیسی لک موجود ہیں اور اپ کو نیویارک کے ٹورنٹو کی کمی محسوس نہیں ہوگی ۔
بنگالی گلی لزبن 
پرتگال میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر دیسی قوموں کی بھی بہت بڑی ابادی موجود ہے جیسا کہ اپ نے میری پچھلی ویڈیو میں دیکھا ۔
اس مرتبہ میں ان کی ایک بہت اہم پاکٹ بنگالی گئی کی طرف گیا ۔ جو شہر کے بہترین مصروف اور فیشن امبری علاقے کے ساتھ ہی متصل ہے ۔
ہم گلی میں جاتے ہی پسماندگی کا احساس ہوتا ہے گار وچ کی ہلکی سی بو پھیلی ہوئی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی گروسری یا گوشت کی دکانیں ہیں یا ہیر سلون ہیں ۔
رات کے ساڑھے گیارہ  بجے بھی ایک ہجوم موجود ہے بیشتر لوگ شلوار  قمیض میں ملبوس ہیں ۔ لگ رہا ہے کہ پاکستانی یہاں زیادہ ہیں لیکن بہرحال اس مارکیٹ کا نام بنگالی بازار ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ لزبن میں دیسی اگر ملتے ہیں تو وہ بنگلہ دیشی ہی ہوتے ہیں
یا اللہ ہم نے کھانا کھایا کھانا تو برا نہیں تھا لیکن ریسٹورنٹ کا ماحول بالکل ہی کسی گھٹیا  ڈھابے کی طرح ہی تھا ۔
تاہم یہاں نفیس  قسم کے پاکستانی اور  دوسرے ریسٹورنٹ بھی
موجود ہیں جو اس علاقے سے ذرا ہٹ گئے ہیں

۔۔۔ ریان ائیر 

دنیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی ہوای کمپنی ہے لیکن سستی ائر لائن  میں شمار ہوتی ہے ۔ آئر لینڈ اس کا حب ہے جہاں سے اس کی ساری دنیا میں فلائٹیں اپریٹ ہوتی ہیں خاص طور پہ یورپ میں اور یورپ سے قریب  افریقہ ممالک میں اس کی سرستی پروازیں دن میں بار بار موجود ہوتی ہیں
اس ائر لائن کے بارے میں ہمیشہ منفی پروپگنڈا کیا گیا ہے کہ یہ مسافروں کو تنگ کرتی ہے زیادہ پیسے سامان کے حوالے سے حاصل کرتی ہے اس کے علاوہ یہاں یہ تک اس پہ الزام تھا کہ یہ باتھ روم  جانے پر بھی فیس لگانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں
اسی لیے میں نے پہلی مرتبہ اس ایئر لائن سے سفر کرنے کا فیصلہ کیا اور میں بھی اس قدر سہما ہوا تھا کہ میں نے بھی سامان کی حد میں انتہائی احتیاط کی گئی ایک انچ بھی بڑا یا  وزن زیادہ نہ ہو جائے ۔ لیکن اس ایئر لائن میں ایکسٹرا سامان کے کوئی زیادہ پیسے نہیں ہیں اگر پہلے سے ہی پلاننگ کرلی  جائے تو سستے داموں زیادہ وزن لے جایا جا سکتا ہے
تمام ایئرپورٹ پہ ریان ائر لائن نے  اپنے حصے مخصوص کیے ہوئے ہیں جہاں پر اس کا عملہ  موجود رہتا ہے وہ سامان کو سختی سے چیک کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ کسی قسم کی سختی نہیں کی جاتی اکثر سامان چھوڑ بھی دیا جاتا ہے ہاں جہاز پر جاتے ہوئے عام طور پر مسافروں کو ریوڑ کی شکل میں پہنچایا جاتا ہے ۔ ریوڑ کی شکل میں ہی واپس لایا جاتا ہے لیکن کہیں کہیں شاید ان کی اپنی بسیں بھی ہیں
مجموعی طور پر ریان عام سستی ائر لائنوں کی طرح ہی ہے ، کوئی زیادہ تنگ نہیں کرتے بلکہ بہتر سروس ہے وقت کی  پابندی ہے بلکہ ہماری فلائٹس وقت سے پہلے اڑی اور وقت سے پہلے پہنچی
ایئر ہوسٹس  بھی اؤٹ اف ڈیٹ نہیں ہے سب سمارٹ خوبصورت اور اپ کی مدد کے لیے تیار ہیں یہ اور بات ہے کہ فری کا کھانا نہیں ملتا
میرا خیال ہے ریان ائر  واقعی  دنیا کی ایک اچھی سستی ایئر لائن ہے اور اس پہ اگر اپ جلدی ٹکٹ بک کر لیں تو اپ کو بہت ہی سستی سواری مل سکتی ہے

نارتھ افریقہ کی بڑی ابشار 

حالانکہ گزشتہ 10 سال پہلے بھی میں مراکو ایا تھا مراکش میں مجھے ایسے پہاڑ نظر نہ ائے جو اس مرتبہ اچانک نظر ائے جن کے اوپر برف بھی جمی ہوئی تھی ۔ یہ کوہ اٹلس ہے جہاں بربر قبائل اباد تھے اور یہی وہ قبائل تھے جنہوں نے طارق بن زیاد کی قیادت میں اسپین پر حملہ کیا اور فتح کیا
اس مرتبہ مراکش شہر سے ازوڈو  واٹر فال دیکھنے گئے جو اسی پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اور شمالی افریقہ کے بلند ترین اپشاروں میں شمار ہوتا ہے ۔
مراکش  سے صبح صبح برف پوش پہاڑوں کی جانب چلے اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے میں وہاں پہنچ گئے جہاں پر بربروں کے  قبائل کے ابھی پرانے گھر موجود ہیں جن کا مشاہدہ کرایا گیا ۔ اور ساتھ ہی جس طرح ہمارے پاکستان کی پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے وہاں کی اجناس اخروٹ  سے لے کر سیب چہری مونگ پھلی اور اس کے علاوہ دیگر معدنیات کی نمائش کی گئی اور بیچنے کی کوششیں جاری رہیں
یہ پہاڑی سلسلہ جب شروع ہوا تو ہمیں اپنا شمالی  پاکستانی یاد اگیا جہاں دریا کنہار کے کنارے کنارے گلگت تک سڑک بل کھاتی ہوئی چلتی ہے اور دونوں طرف خوبصورتی کی انتہا ہے جو اب برباد ہوتی جا رہی ہے ۔ لیکن یہاں کوہ اتلس  کے دامن میں ابھی توانائی باقی ہے خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہیں زمین کی رنگت سرخ ہے ۔
ایک خاص مقام کے بعد ڈیڑھ گھنٹے بعد پہاڑ پر چڑھائی ہے جو کہ کافی مشکل بھی ہے لیکن عزم اور حوصلے اگر بلند ہوں تو پہنچنا مشکل نہیں ۔ آبشار  تو کوئی خاص نہیں ظاہر ہے جو لوگ نیاگرا  جیسے آبشار دیکھ  چکے ہوں ان کے لیے یہ پانی کے پر نالے ہی ہیں لیکن وہاں کا موسم وہاں کی اب و ہوا خوشبو ٹھنڈک دلوں کو گرما دیتی ہے ۔
میں نے کیوں کہ اسپین  کا وہ علاقہ دیکھا ہے جو شمالی افریقہ  کے قریب ہے تو مجھے یہ پہاڑی سلسلہ بالکل یورپ کے پہاڑی سلوں سے ملتا جلتا لگا ۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *