نہیں لگتا کہ ایران کا جوہری نظریہ نمایاں طور پر تبدیل ہو گا: ایرانی وزیرِ خارجہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ نہیں لگتا کہ ایران کا جوہری نظریہ نمایاں طور پر تبدیل ہوگا، اس حوالے سے نئے سپریم لیڈر کے مؤقف کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے فوجی اڈوں سے نکل کر شہری علاقوں اور ہوٹلوں میں منتقل ہونا شروع کردیا ہے، امریکی افواج کی منتقلی کے باعث ایسے مقامات بھی نشانے پر آئے جو آبادی کے قریب ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ جہاں جہاں امریکی افواج یا ان کی تنصیبات موجود تھیں انہیں نشانہ بنایا گیا، ممکن ہے نشانہ بنائے گئے کچھ مقامات شہری علاقوں کے قریب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے خطے کے ممالک اور ان کے عوام کو نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، 28 فروری کو جنگ شروع کرنے کا الزام مکمل طور پر امریکا پر عائد ہوتا ہے۔

اسرائیلی حملے میں ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی، اِن کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی اور ایک معاون شہید ہو گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے ایک الگ حملے میں بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے۔

علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے، ان کی شہادت کا اعلان سوشل میڈیا ایکس پر بھی کر دیا گیا ہے۔

بیان میں لکھا گیا ہے کہ ’خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا۔‘

علی لاریجانی کی شہادت پر ایران کا ردعمل

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ’الجزیرہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی نظامِ حکومت ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے پر مبنی ہے، اس لیے کسی ایک شخصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ریاستی نظام متاثر نہیں ہوتا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ایران کا نظام شخصیات کے بجائے اداروں کے ذریعے چلتا ہے، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ریاستی یا عسکری صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔

ایران کا موزیک دفاع کیا ہے؟

ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کو ’موزیک دفاع‘ کہا جاتا ہے جسے ایرانی عسکری شخصیت محمد علی جعفری نے تیار کیا تھا، اس نظریے کے تحت فوجی طاقت کو مرکزی کمان کے بجائے مختلف علاقائی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس نظام میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی)، بسیج فورس، باقاعدہ فوجی یونٹس، میزائل اور بحری دستے سب غیر مرکزی مگر دفاعی نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔

آئی آر جی سی کو 31 صوبائی کمانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں ہر صوبہ اپنی سطح پر انٹیلی جنس، اسلحہ اور کمانڈ کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر مرکزی قیادت یا رابطہ نظام متاثر بھی ہو جائے تو مقامی یونٹس خود کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکری ماہر ڈاکٹر مائیکل کونال کا ایرانی عسکری ڈھانچے سے متعلق کہنا ہے کہ اس ڈھانچے کا مقصد ایران کے دفاعی نظام کو اس حد تک پھیلا دینا ہے کہ اسے مکمل طور پر ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *