تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کا نام نہیں؛ بعض اوقات ایک دریا، ایک راستہ اور ایک بستی بھی صدیوں کی داستان اپنے اندر سموئے ہوتی ہے۔ تھاکوٹ بھی ایسی ہی بستی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع یہ مقام پکھلی، سوات، کوہستان اور شمالی علاقوں کو ملانے والی قدیم گزرگاہ پر آباد ہوا۔ آج یہاں سے شاہراہِ قراقرم گزرتی ہے، مگر اس راستے پر صدیوں پہلے بھی قافلے، سپاہیں اور مسافر گزرتے تھے۔ اسی جغرافیائی اہمیت نے تھاکوٹ کو بار بار تاریخ کے بڑے واقعات میں لا کھڑا کیا۔
تھاکوٹ کی تاریخ اسلامی عہد سے پہلے تک جاتی ہے۔ دریائے سندھ کی وادی میں ملنے والے قدیم چٹانی نقوش اور کتبے اِس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ بہت پہلے سے انسانی آمدورفت اور تہذیبی رابطوں کا مرکز تھا۔ بدھ مت کے زمانے میں بھی دریائے سندھ کے ساتھ چلنے والی گزرگاہیں اہم تھیں اور شمالی علاقوں کو وادیٔ سندھ سے ملاتی تھیں۔ یوں تھاکوٹ کی اصل کہانی کسی ایک قبیلے یا حکمران سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس دریا اور اس راستے سے شروع ہوتی ہے جس نے اس خطے کو صدیوں تک زندہ رکھا۔
اسلامی عہد میں تھاکوٹ کی تاریخ پکھلی سے جڑ گئی۔ پکھلی ایک وسیع تاریخی خطہ تھا جہاں مختلف ادوار میں ترک حکمرانوں کا اقتدار قائم رہا۔ ان میں کرلُغ ترک نمایاں تھے۔ مغلیہ دور میں پکھلی سرحدی سیاست کا اہم مرکز تھا اور یہاں کے ترک حکمرانوں کو مقامی اقتدار حاصل تھا۔ تھاکوٹ دریائے سندھ کی جانب جانیوالی گزرگاہ پر واقع ہونے کے باعث اس سیاسی نظام کا ایک اہم دفاعی مقام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تھاکوٹ کی تاریخ کو پکھلی کی تاریخ سے الگ کرکے دیکھنا اسکے تاریخی کردار کو محدود کردیتا ہے۔
سترھویں صدی میں پکھلی کی سیاسی فضا بدلنے لگی۔ اسی کشمکش میں چھاچھل (چھانجل) قلعہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔ 1667ء میں اخون سالاک اور بہاکو خان کی قیادت میں قبائلی لشکر کی پیشقدمی اور قلعہ چھاچھل پر حملے کا ذکر تاریخی روایات میں ملتا ہے۔ یہ واقعہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس نے پکھلی میں قائم کرلُغ ترک اقتدار کے سامنے ایک نیا سیاسی چیلنج پیدا کردیا۔ قلعہ چھاچھل محض ایک فوجی تعمیر نہیں تھا بلکہ دریائے سندھ کی گزرگاہ اور تھاکوٹ کے دفاعی نظام میں اسکی خاص اہمیت تھی۔
اخوند سالاک اور بہاکو خان کی مہم پکھلی میں اقتدار کی تبدیلی کے ایک طویل عمل کی اہم کڑی تھی۔ قلعہ چھاچھل پر کارروائی کے بعد دریائے سندھ کی سمت پیشقدمی ہوئی اور پکھلی کے شمالی علاقوں میں سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے۔ اسکے بعد مختلف قبائلی گروہوں کی پیشقدمی جاری رہی اور بالآخر وہ مرحلہ آیا جب پکھلی میں اقتدار کا پرانا ڈھانچہ اپنی گرفت برقرار نہ رکھ سکا۔ یوں تھاکوٹ اور اسکے گردونواح بھی اس بڑی سیاسی تبدیلی کی زد میں آگئے۔
اس آخری مرحلے میں شمشیر خان کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ کرلُغ حکمران سلطان محمود خورد کا وفادار سپہ سالار تھا اور تھاکوٹ کے قلعے اور اس کے گردونواح کا انتظام اُسکے پاس تھا۔ جب حملہ آور لشکر نے ترک اقتدار کے آخری مراکز پر قبضے کیلئے پیش قدمی کی تو شمشیر خان نے تھاکوٹ کے قلعے میں مزاحمت کی۔ روایت میں قلعے کے محاصرے اور شدید مزاحمت کا ذکر ملتا ہے اور بالآخر شمشیر خان لڑتے ہوئے مارا گیا۔ اس واقعے کے بعد پکھلی میں کرلُغ ترک اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔
ترک اقتدار کے خاتمے کے بعد پکھلی کے مختلف علاقوں میں سواتی خاندانوں کی آبادکاری اور مقامی حکمرانی کا سلسلہ مضبوط ہوا۔ تھاکوٹ میں بھی خانوں اور ملکوں کا قبائلی نظام قائم ہوا، جس میں ارغوشال سواتی خاندان کا نام نمایاں طور پر ملتا ہے۔ جرگہ، خان اور ملک پر مبنی یہ نظم طویل عرصے تک مقامی سیاسی و سماجی زندگی کا حصہ رہا۔ تاہم اقتدار کی تبدیلی کے باوجود تھاکوٹ کی بنیادی اہمیت برقرار رہی؛ دریائے سندھ کی گزرگاہ، شمال کی طرف جانیوالا راستہ اور پکھلی کی سرحدی حیثیت اسے مسلسل اہم بنائے رہے۔
اُنیسویں صدی میں برطانوی اقتدار ہزارہ تک پہنچا تو تھاکوٹ ایک بار پھر فوجی اور سیاسی اہمیت اختیار کرگیا۔ تورغر (کالاڈھاکہ) کی مہمات، قبائلی علاقوں کی نگرانی اور دریائے سندھ کی جانب جانیوالے راستوں کے باعث یہ خطہ برطانوی فوج کیلئے اہم تھا۔ برطانوی گزٹیئر اور فوجی ریکارڈوں میں تھاکوٹ اور اسکے آس پاس کے علاقوں کا ذکر فوجی پیشقدمی اور سرحدی سیاست کے حوالے سے ملتا ہے۔ بعد میں شاہراہِ قراقرم نے اسی قدیم گزرگاہ کو جدید مواصلاتی راستے میں تبدیل کردیا اور تھاکوٹ کی جغرافیائی اہمیت ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔
کسی خطے کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ یہاں کتنے فاتح آئے اور حکمران گزرے، بلکہ یہ ہے کہ وقت کے بدلتے ہاتھوں کے باوجود اسکی شناخت کتنی دیر قائم رہی۔ تھاکوٹ کی شناخت کسی ایک عہد کی محتاج نہیں۔ دریائے سندھ آج بھی بہہ رہا ہے، پہاڑ خاموشی سے کھڑے ہیں اور راستہ مسافروں کو شمال کی طرف لے جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی ان راستوں پر گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی تھیں، آج گاڑیوں کی آوازیں گونجتی ہیں۔ تھاکوٹ محض ایک مقام نہیں؛ یہ پکھلی کی تاریخ کا وہ آئینہ ہے جس میں گزرتی صدیوں کے چہرے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔




