امریکا میں وسط مدتی انتخابات کل منگل کوہوں گے جس میں کانگریس پرکنٹرول اور صدرٹرمپ کی طاقت کا فیصلہ ہوگا‘ الیکشن میں تاریخی ٹرن آؤٹ کا امکان ‘ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کی صورت میں ٹرمپ کے اختیارات پر قدغن لگنے کا امکان ہے‘ کل کے انتخابات میں سینیٹ کی 100میں سے 35 اور ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی جس کیلئے 21کروڑ امریکی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ 5کروڑ 30لاکھ سے زائد امریکی ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ پہلے ہی کاسٹ کرچکے ہیں‘مڈٹرم الیکشن کے موقع پر 36ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی عمل میں لایا جائے گا‘ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47نشستوں کی اکثریت حاصل ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی اسے معمولی برتری حاصل ہے‘انتخابی جائزوں کےمطابق ڈیمو کریٹس کو 52 اور حکمراںری پبلکنز کو45فیصدحمایت حاصل ہے جبکہ الیکشن کی تشہیری مہم پر 11.6ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں ‘ووٹرزکی ترجیحات میں معیشت ‘مہنگائی ‘ خارجہ پالیسی اورایران جنگ سرفہرست ہیں‘ادھروائٹ ہاؤس نے ری پبلکن کی شکست اور کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کی صورت میں صدارتی انتظامی اختیارات کے ذریعے حکومتی ایجنڈا آگے بڑھانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے‘ ٹرمپ کا کہنا ہے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہوئی تومسٹر ویٹو بن جائوں گا۔تفصیلات کے مطابق امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن جماعت نے اتوار کے روز آخری انتخابی مہم تیز کر دی ہے تاکہ ڈیموکریٹس کی متوقع بڑی کامیابی کو روکا جا سکےجبکہ ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے اور صدرٹرمپ کے غیر معمولی اختیارات پر پہلی بڑی سیاسی روک لگانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
امریکا کی ریاست مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدل السید کی سابق ڈیموکریٹک حریف ہیلی اسٹیونز نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے عبدل کے ری پبلکن حریف مائیک راجرز کی توثیق کردی۔
ٹرمپ نے کہاکہ اسٹیونز سے رابطہ کریں گے اور ان کا شکریہ ادا کریں گے، عبدل السید نے ردعمل میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہیلی اسٹیونز کے بارے میں سوچتے تک نہیں۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔




