یقینا اپ سے کچھ دنوں پہلے تک پاکستان میں مسٹر پتلو کی بہت لے دے ہو رہی ہوگی کیونکہ ان کی نام نہاد مہندی میں ہزاروں لوگ سیالکوٹ کے قریب ڈسکا کے اسٹیڈیم میں پہنچے اور وہاں بھگڈر کا معاملہ ہو گیا اور اس میں کچھ لوگ ہلاک اور بہت سارے زخمی ہوئے
مسٹر پتلو کوئی ایسی جہاندیدہ شخصیت نہیں تھے بلکہ ٹک ٹاک کے ایک ماہر تھے جس کے پاکستان میں ہزاروں فین ہوں گے بغیر شاید لاکھوں سے بھی زیادہ ہوں جو صرف ان کی مہدی کی تقریب میں اور چند موٹر سائیکلوں اور ایک کار کے لالچ میں بھاگے ہوئے ایک اسٹیڈیم میں پہنچ گئے
اب پاکستانی معاشرے کہ لتے لیے جارہے ہیں کہ وہاں پر اس قسم کے بھانڈ مسخرے اور فضول لوگ اتنے بڑے ہیرو کیسے بن رہے ہیں کہ لوگوں کے پاس ان پر جان تک نچھاور کرنے کا جذبہ موجود ہے
اس کی وجہ یقینا انٹرٹینمنٹ کی کمی فلموں موسیقی رقص پروگرام ڈراموں کا گھٹیا معیار اور مذہبی انتہا پسندی کی جانب تیزی سے مائل ہونا ہے تو ہے ہی ساتھ میں وہ 2013 کی سیاست کا وہ عظیم کلچر جس میں “اپ میری امی سے شادی کر لیں میرے ابا کو کوئی اعتراض نہیں ہے ” والا کلچر بھی شامل ہے ۔
یہ واہیات اور آبرو باختہ کلچر ایک سیاسی مقصد کے لیے پاکستان کے معاشرے میں شامل کیا گیا جس کے اثرات اج 14 سال گزرنے کے باوجود بھی محسوس کیے جا رہے ہیں ۔
ایسا نہیں ہے دنیا کی دیگر معاشروں میں اس قسم کے لوگوں کی پذیرائی نہیں ہوتی وہ برابر کا ملک ہندوستان ہو جہاں پر بگ باس پروگرام میں اج کل ادھے سے زیادہ مقابلہ کرنے والے لوگ وہ اتے ہیں جو سوشل میڈیا پر معروف ہوتے ہیں جن کی ملینز میں فالوور ہوتے ہیں اور ان کا کارنامہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی اپنے گھر کی ویڈیو لاگ بنا کے پیش کر رہا ہوتا ہے کسی نے دو بیویاں رکھی ہوتی ہیں کسی نے کوئی اور ایسا اخلاق سے گرا ہوا کام کیا ہوا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مقبول ہوتا ہے اور ان کے پیچھے لاکھوں لوگ لگے ہوتے ہیں کھانا پکانے کی ترکیب بتانے والے اور سفر کے وی کرنے والے اس کے علاوہ ہیں۔
ابھی نارتھ امریکہ کے مختلف شہروں میں پاکستان کے ایک بھانڈ قسم کے مزاحیہ اداکار مانی کی بیگم حرا مانی نے یہاں کا دورہ کیا اور ان کی پذیرائی ایسی ہوئی ہے جیسے پاکستان سے کوئی طارق جمیل یا ذاکر نائک ٹائپ کی کوئی ہستی اگئی ہے اس خاتون کا نہ تو کوئی اداکاری میں معیار ہے نہ اس نے کوئی بہت بڑا ڈرامہ کیا ہے نہ میرے خیال سے پاکستان میں بہت زیادہ لوگ اس کو جانتے بھی نہیں ہیں لیکن یہاں اس کے خصوصی شو کئے گئے ، اس نے مسلسل سلیو لیس شرٹس پہنی ہیں مغربی لباس کے ساتھ پاکستانی لباس کو مختصر کر کے پہن کر اپنی ادائیں دکھائی ہیں سچی بات تو یہ ہے کھل کر رقص بھی نہیں کیا ہے لیکن اس کے ہر پروگرام کے شو سولڈ آوٹ رہے ہیں اس میں سب یہ پڑھے لکھے اچھی جاب کرنے والے کاروباری خواتین و حضرات خود شامل تھے اور ان کی بیگمات شامل تھین ،
اس سے ملاقات کے پانچ سو ڈالر تھے جس کو یہاں کے بڑے بڑے کاروباری حضرات نے فخر سے ادا کیے اور اس کے ساتھ تصویریں کھنچواین ۔
لیکن پاکستان میں کیونکہ انتظامی طور پر صلاحیتوں کو فقدان ہے اور اس وجہ سے اس قسم کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں یاد کریں صرف رمضان المبارک میں کراچی میں کھارادر کے علاقے میں مفت راشن بٹنے کے دوران بھی اس سے بڑا حادثہ ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ پہلے ایک اور مساجد میں نمازیوں میں جلد نکلنے کی وجہ سے بھی اس قسم کے حادثات ہو چکے ہیں ۔
تو سلسلہ یہ ہے کہ اس بات پر اپنے اپ کو یا لوگوں کو کوسنے کے بجائے کہ وہ مسٹر پتلو جیسے لوگوں کے اتنے ناز مند کیوں ہو گئے ہیں ہمیں اپنے معاشرے کو ڈھنگ سے تعلیمی اور ثقافتی پختگی کی طرف گامزن کرنا ہوگا ہمارے کلچر کے اندر جو لطیف امور ہیں ان کو رونما کرنا ہوگا مذہبی انتہا پسندی کی طرف جانے کے بجائے مذہبی ازادیوں کی طرف جانا ہوگا ہر مذہب ہر مسلک کا احترام اور ان کے اندر نہ گھسنے کی قسمیں کھانی ہوں گی
مسٹر پتلو جیسے کردار ہر دور میں پہلے بھی تھے اج بھی ہیں ائندہ بھی رہیں گے ان کے بہت سارے فالوور بھی ہوں گے کوئی ان کی بے وقوفی کی وجہ سے ان کا فین ہوگا کوئی ان کے توتلا کے بولنے کی وجہ سے ان کا فین ہوا کوئی ان کی بیگم کی خوبصورتی کی وجہ سے ان کا فین ہوگا جس کو وہ روز سوشل میڈیا پہ دکھاتے ہوں گے ۔ لیکن ان تمام رویوں کے باوجود معاشرے کو اگے بڑھنا ہوتا ہے اور اس کو اگے بڑھانے والے لوگ خاموشی سے کام کر رہے ہوتے ہیں اس کی بنا پر اپنی قوم کو گالیاں دینا اپنے ملک کے خلاف بات کرنا اور پھر اس کو سیاست سے جوڑنا بھی ایک بیماری ہی ہے
اب وہ سیاسی پارٹی جس نے اس قسم کا کلچر پاکستان میں سب سے پہلے رائج کیا ہے وہ مسٹر پتلو کو ایک اپنی مخالف سیاسی پارٹی جو اقتدار میں ہے کے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور ظاہر ہے اس کا جواب مخالف سیاسی پارٹی کے پاس بھی ہے ۔ تو اس قسم کے الزامات الزامات سے مسٹر پتلو ٹائپ کے لوگوں سے نجات نہیں حاصل کی جا سکتی ہمیں اس کو خود غرضانہ اور کھنڈر بنتے ہوئے معاشرے کو لطیف معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے




