مڈٹرمپ: صدر کا پرچہ، عوام کا خرچہ از قلم: نجیم شاہ

امریکہ میں 3 نومبر 2026ء کو مڈٹرم انتخابات ہونگے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ’’مڈٹرمپ‘‘ زیادہ موزوں نام ہے۔ صدر صاحب صدارت کی آدھی مدت گزار چکے ہیں اور اب کارکردگی کا پرچہ عوام کے سامنے ہے۔ عام طالب علم فیل ہو تو نمبر کٹتے ہیں، سیاست دان فیل ہو تو سازش کا شور اُٹھتا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کو عظیم بنانے کا وعدہ کیا تھا؛ اب عوام عظمت کا بل دیکھیں گے۔

ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہونگے۔ صدر کا نام بیلٹ پر نہیں ہوگا، مگر امتحان انہی کا ہے۔ ریپبلکن اکثریت بچائیں گے، ڈیموکریٹس اسے چھیننے نکلیں گے۔ سیاست بھی خوب کاروبار ہے: وعدے تھوک کے بھاؤ، نتائج پرچون میں اور نقصان ہمیشہ گاہک کا۔ انتخابی مہم میں عوام بادشاہ ہوتے ہیں، انتخابات کے بعد حکمران بادشاہ بن بیٹھتے ہیں۔

امریکی عوام کو مہنگائی، روزگار، ایندھن، صحت اور رہائش کی فکر ہے۔ قومی عظمت اپنی جگہ، مگر بجلی کا بل حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دیکھ کر کم نہیں ہوتا۔ مکان کا مالک صدارتی تقریر سُن کر کرایہ معاف نہیں کرتا اور سپرمارکیٹ کا کیشیئر ’’امریکہ فرسٹ‘‘ پر رعایت نہیں دیتا۔ سیاست دان چاند پر پہنچانے کے وعدے کرتے ہیں، شہری مہینے کے آخر تک زمین پر ٹکے رہنے کا حساب لگاتا ہے۔

ٹرمپ کے حامی اُنکی سخت گیر پالیسیوں اور ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کو قومی مفاد کا تحفظ سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین اُن کے معاشی اور سفارتی فیصلوں پر سوال اُٹھاتے ہیں۔ انتخابی پوسٹر پر ہر اُمیدوار فاتح دکھائی دیتا ہے؛ فوٹوگرافر کو اکثریت نہیں، اچھی روشنی چاہیے۔ اصل فوٹو سیشن بیلٹ باکس میں ہوتا ہے، جہاں نہ میک اپ چلتا ہے، نہ فلٹر۔ وہاں ووٹر کا انگوٹھا فیصلہ سناتا ہے۔

اگر ریپبلکن دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ کیلئے قانون سازی، بجٹ اور حکومتی ترجیحات آگے بڑھانا آسان ہوگا۔ وہ اسے اپنی پالیسیوں کی توثیق کہیں گے، کیونکہ سیاست دان کامیابی کو اپنی ذہانت اور ناکامی کو حالات کی سازش سمجھتے ہیں۔ جیتنے کے بعد عوام کی آواز موسیقی لگتی ہے، ہارنے کے بعد وہی آواز شور بن جاتی ہے۔

اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو تحقیقات، سماعتوں، بجٹ مذاکرات اور قانون سازی میں مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ صدر کے اختیارات ختم نہیں ہونگے، مگر ہر حکم شاہی فرمان کی طرح نافذ بھی نہیں ہوگا۔ وائٹ ہاؤس سوال اُٹھائے گا، کانگریس جواب مانگے گی اور انتظامیہ وضاحتیں دے گی۔ جمہوریت میں فائلیں چلتی ہیں، حکومتیں تھکتی ہیں اور عوام انتظار کرتے ہیں۔

امریکی ووٹر ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلے۔ کچھ ٹرمپ کی قیادت پسند کرتے ہیں، کچھ اُن کی پالیسیوں کے مخالف ہیں، جبکہ بہت سے لوگ نظریات سے پہلے گھر کا بجٹ دیکھتے ہیں۔ انتخابی وعدہ مستقبل کی رنگین تصویر ہے، مگر گروسری کی رسید حال کا اصل پوسٹ مارٹم۔ جلسے میں وعدے پر تالیاں بج سکتی ہیں، گھر پہنچ کر رسید خاندانی بجٹ کا ہنگامی اجلاس بلا دیتی ہے۔

سیاست دان خواب دکھاتا ہے، عوام قسطیں ادا کرتے ہیں۔ خواب اربوں ڈالر کے ہوں اور جیب میں راشن کے پیسے نہ ہوں تو انقلاب بھی پہلے مہینے کا خرچ پوچھنے لگتا ہے۔ عوام کیلئے اصل کامیابی نعروں کی بلندی نہیں، زندگی کی آسانی ہے۔ اگر آمدنی وہیں کھڑی رہے اور اخراجات دوڑتے رہیں تو قومی عظمت کا جشن بھی گھریلو بجٹ کے ماتم میں بدل سکتا ہے۔

دُنیا بھی اِن انتخابات پر نظر رکھے گی۔ ریپبلکن کامیاب ہوئے تو ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور خارجہ ترجیحات کو تقویت مل سکتی ہے؛ ڈیموکریٹس آگے بڑھے تو نگرانی اور اختلاف بڑھ سکتا ہے۔ چین، روس، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ امریکی سیاسی صورتِ حال کو اپنے مفادات کے مطابق جانچیں گے۔ واشنگٹن میں اکثریت بدلے تو دُوسرے دارالحکومتوں میں فائلیں کھل جاتی ہیں؛ عالمی سیاست میں دُوسروں کا ووٹ بھی اپنا حساب بگاڑ دیتا ہے۔

مڈٹرم انتخابات ٹرمپ کی صدارت ختم نہیں کرینگے، مگر باقی دو برسوں کی سیاسی گنجائش بدل سکتے ہیں۔ ریپبلکن جیتے تو قانون سازی آسان ہوگی؛ ڈیموکریٹس آگے نکلے تو نگرانی اور مزاحمت بڑھے گی۔ یہی ’’مڈٹرمپ‘‘ کا اصل امتحان ہے: انتخابی مہم میں اُمیدوار عوام کو بتاتے ہیں کہ اُنہیں کیا چاہیے، مگر بیلٹ باکس بتاتا ہے کہ عوام اُمیدوار سے کیا چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں آخری فیصلہ تقریر نہیں، ووٹ کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں