بھوے اصل ۔۔۔۔ ایک اسٹیشن تحریر ظفر محمد خان

میری خوش قسمتی ہے کہ میری چھوٹی موٹی ویڈیو اور معمولی لکھائی کو کچھ لوگ پڑھ بھی لیتے ہیں اور اس میں سے کچھ چیز عکس کرکے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھتے بھی ہیں ۔ ڈبلن شہر کے بارے میں میری مختصر سی ویڈیو سے ہمارے ایک دوست نے لاہور کے قریب ایک قصبے” بھوے اصل ” کا ذکر سنا اور اس کے بارے میں استفسار کیا کہ اپ اس کو کیسے جانتے ہیں ۔ میں جتنا جانتا ہوں اس کو یہاں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں

80 کی دہائی کی امد سے کچھ قبل ہمارے کالج کا ال پاکستان ٹور تھا یہ میرے لیے بہت ہی دلچسپ اور ایکسائٹڈ چیز تھی کیونکہ میں اس سے پہلے صادق اباد پنجاب سے اگے ٹرین کے ذریعے نہیں گیا تھا ۔ اور وہ بھی انتہائی بچپنے میں یا پھر صرف ایک سال پہلے خواہ مخواہ ضد کر کے صادق اباد کا سفر کیا تھا ۔
ٹرین کے ایک ڈبے میں ساری کلاس کا جمع ہونا اور اس میں پورے پاکستان کا سفر کرنا راستے میں ہوٹلوں کے بجائے ٹرین کے ڈبوں میں ہی ہوٹل کی طرح رات گزارنا وہیں کھانا پکانا وہیں کھانا کھانا یہ ایسا تجربہ تھا کہ میں اج تک اس کا متبادل نہیں پا سکا ہوں اس کے جیسے مزیدار تجربے تو ضرور گزرے لیکن اس سے بہتر کوئی نہیں گزرا ۔
ہر طالب علم کو اگر اس کی تعلیمی زندگی میں ایسا کوئی ٹور ملتا ہے تو اس کو وہ کبھی بھی ضائع نہ کرے ایسا مزہ زندگی میں پھر کبھی نہیں اتا ۔
خیر شاہین ایکسپریس سے کراچی سے روانگی ہوئی تھی ڈبے کے اوپر ہمارے کالج کا بینر آویزاں تھا لوگ خوشی سے سرشار تھے میری والدہ مجھے چھوڑنے ائی تھی اس سے اندازہ لگائیں میری عمر کتنی ہوگی ۔ ہمارے ساتھ جو طلبہ تھے ان میں مجھ سے بڑی عمر کے بہت سارے لوگ تھے حتی کہ میرے سگے ماموں بھی موجود تھے جو مجھ سے چار سال بڑے ہوں گے لیکن ایف ایس سی میں بہت زیادہ اچھے نمبر نہ انے کی وجہ سے وہ ڈپلومہ کرنے کے لیے پولیٹیکنک میں اگئے تھے ۔ اور ہم ایک ہی کلاس میں تھے اس بارے میں میں پھر کبھی لکھوں گا کہ اگر ایک ہی خاندان یا ایک ہی قریبی رشتے کے لوگ تعلیم میں ایک ہی کلاس میں ہوں یا نوکری میں ایک ہی میز پر بیٹھے ہوں تو کس قسم کے معاملات ہوتے ہیں جو میرے ساتھ پیش ائے کیونکہ میرے ماموں اگے KESC میں بھی ہم ایک ساتھ کام کر رہے تھے ۔
خیر شاہین ایکسپریس کراچی سے دوپہر پونے 12 بجے روانہ ہوئی حیدراباد پر خوب جشن ہوا جیے کراچی کے نعرے لگائے گئے اور حیدراباد اسٹیشن پہ کھڑے ہوئے لوگوں نے جیے حیدراباد کے نعرے لگائے ہے ، نا عجیب سی بات لیکن اس زمانے میں ایسا چلتا تھا
جیسے جیسے ٹرین اگے بڑھتی گئی سفر کرنے والے ساتھی کھل کر سامنے انے لگے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں ہلکی پھلکی بدمعاشیوں تک پہنچنے لگی ۔ خیرپور اسٹیشن سے کھجور کے بھرے ہوئے بورے جو کسی ٹرین کے انتظار میں رکھے ہوئے تھے اٹھا کے گاڑی کے اندر دھر لیے گئے اور کھجوروں کی محفل سجی ۔ صادق اباد کے اسٹیشن پر جب رات ہو چکی تھی کیلے اور مالٹوں کے بڑے بڑے بیگج پڑے ہوئے تھے جو بڑی پھرتی کے ساتھ ڈبے کے اندر کر لیے گئے ۔ میں کھڑکی سے یہ دیکھ کر ٹلملا رہا تھا لیکن میں عمر میں ان سے کافی چھوٹا تھا اور میں کسی گروپ کا حصہ بھی نہیں تھا میرے گروپ میں ایک ناظم جمیعت محمد جاوید خان میرے دیرینہ دوست تھے ایک اسکول ٹیچر جعفر تھے جو مجھ سے ذرا بڑے تھے ایک ادھ دوست اور تھے ۔ تو ہم صرف دیکھ دیکھ کر تب رہے تھے ہاں حصے میں جو ملتا تھا وہ کھا ضرور لیتے تھے
ملتان اسٹیشن پر ہمارے ڈبے کو گاڑی سے کاٹ دیا گیا کیونکہ اگلے دو روز ہمیں ملتان میں گھومنا پھرنا تھا ۔ ہم میں سے جو کچھ بڑے تھے وہ بانو بازار میں ناہید اختر کو ڈھونڈنے کے لیے چلے گئے ۔ ہم نے وہاں کی کچھ انڈسٹریز دیکھی اور رکن الدین عالم کے مزار پر حاضری دی ۔ دو دن بعد رات گئے غالبا کراچی ایکسپریس کے ساتھ ہماری بوگی کو متصل کیا گیا اور لاہور کی جانب روانہ کیا گیا ۔ ظاہر ہے ہمارے دوستوں کی معمولی معمولی بدمعاشیاں اب عروج پر تھیں ۔ کوئی گاڑی بھی پاس ہو جائے تو اس کو بھی یہ پانی مار مار کے تنگ کرتے تھے ۔ خیر صبح سویرے کراچی ایکسپریس” بھوئے اصل ” ریلوے اسٹیشن پر رکی جو لاہور کے قریب ہی تھا وہاں پر دودھ کے بڑے بڑے ڈرم رکھے ہوئے تھے جو ہمیں تو نہیں پتہ تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ لاہور میں دودھ کی سپلائی اسی شہر سے ہوتی ہے ۔
خیر ہمارے بدمعاش گروپ نے فوری طور پہ لوہے کے ڈراموں کو گاڑی کے اندر رکھنا شروع کر دیا کیونکہ اگے لاہور میں تقریبا چھ دن ٹھہرنا تھا اور دودھ کی کمی نہ ہو سردی کا موسم تھا تو گرم گرم دودھ ابال ابال کے پینے کا پروگرام تھا ۔ تقریبا 10 کے قریب دودھ کے ڈرم گاڑی کے اندر کر لیے گئے اسی دوران وہاں کچھ نگہبانوں یا گوالوں یا اس دودھ کے مالکوں نے ا کے لڑائی جھگڑا شروع کیا تو یہاں تو لڑنے کے لیے تیار بیٹھے تھے ہاتھا پائی شروع ہو گئی ۔
اسی دوران قریبی اسکول میں گھنٹی بجنے لگی اور وہاں سے بچے اور اساتذہ بھاگے ہوئے اسٹیشن کی طرف ائے ۔ مجھے تو خدشہ ہے کہ شاید مسجدوں سے بھی اعلان ہو گیا کہ اسٹیشن پر لڑائی ہو گئی ہے تو جناب وہاں پر جوق در جوق بہت سارے لوگ پہنچ گئے اور پھر ہمارے بچوں کی جو کٹ لگائی گئی ہے جو دھنائی کی گئی ہے جو واٹ لگائی گئی ہے وہ دیکھنے کے لائق تھی ۔ میں تو ہجوم کو دیکھتے ہی پچھلے دروازے سے نیچے اتر گیا کہ ہم انہیں پتھروں سے ماریں گے لیکن اس دوران پتھر مارنے کے لیے کوئی وہاں نہیں رہ گیا تھا ہمارے سارے برگزیدہ بدمعاش پٹ پٹ کے ڈھیر ہو چکے تھے گاڑی کو روک دیا گیا تھا ۔ اسٹیشن ماسٹر ، انجن ڈرائیور ترین کا گارڈ ، اسکول کا ہیڈ ماسٹر اور پتہ نہیں کتنے لوگ مل کے مذاکرات کر رہے تھے کہ ان لوگوں کو اٹھا کے پولیس کے حوالے کیا جائے ۔ تھوڑی دیر میں پولیس بھی اگئی لیکن وہ زمانہ رواداری کا زمانہ تھا، کراچی کے لوگ ہیں کراچی کے لوگ ہیں مہمان ہیں کی تکرار سننے میں ارہی تھی اور بالاخر کسی قسم کا کوئی مقدمہ وغیرہ درج نہیں ہوا دودھ ان کو عزت کے ساتھ واپس کر دیا گیا لیکن انہوں نے پھر بھی کوئی 10 کلو دودھ ہمیں دے دیا کہ اگے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی ۔
ٹرین کو وہاں روک دیا گیا تھا پیچھے انے والی تیز گام ، تیز رو کو پاس کیا گیا اور تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے ٹرین بھوے اصل اسٹیشن سے روانہ ہوئی ۔
اتفاق سے پوری بوگی میں 72 طلبہ تھے جن میں سے تقریبا 40 کو چوٹیں ائی تھی اکثر درد سے کرا رہے تھے کسی کی ٹانگ سوج رہی تھی کسی کی کمر پہ ڈنڈا لگا تھا کسی کا سر معمولی سا پھٹ گیا تھا ۔ میرے ماموں بھی اسی دودھ کے ڈرم اٹھاؤ گروپ میں شامل تھے ان کو بھی چوٹیں ائی تھی وہ بھی ایک طرف بیٹھے ہوئے اپنی پیر پر کس کے رومال باندھ رہے تھے ۔
لاہور پہنچ کر ہمارا فوری وزٹ پیکو سائیکل فیکٹری کا تھا جو کینسل کر دیا گیا بعد میں اوپر سے ڈانٹ بھی پڑی ہوگی ساتھ میں جو دو ٹیچر حفاظتی طور پر ہمارے ساتھ ائے تھے وہ بھی بظاہر ناراض تھے لیکن ان میں سے ایک کو میں جانتا ہوں کہ وہ بھی اس حملے میں شامل تھے ۔
خیر لاہور پہنچ گئے جن لوگوں کے لاہور میں رشتہ دار تھے ان سے انہوں نے دوائیاں اور سکائیاں کروائیں باقی لوگ بھی اگلے دو تین دن گھومنے پھرنے کے بجائے ٹرین کے ڈبے میں ہی پڑے ہائے ہائے کرتے رہے ۔
اس دن کے بعد سے جب بھی بھوئے اصل ریلوے اسٹیشن سے گزرتا ہوں تو ایک آہ بھرتا ہوں ، اپنے دوستوں کو بچوں کو دکھاتا ہوں کہ یہ وہ اصل اسٹیشن ہے جس نے بالاخر حد سے گزرے ہوئے اخلاق باختہ نوجوانوں کو ڈنڈا کر کے درست کیا ۔
پچھلے دو مرتبہ جب میں بھوے اصل سے گزرا ہوں تو وہ اسکول نظر نہیں ارہا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اگے یا تو بلڈنگیں بن گئی ہیں اور نہ ہی وہ مسجد کا مینار نظر ارہا ہے۔ بھوے اصل اب تیزی سے لاہور میں شامل ہوتا جا رہا ہے ۔
بعد میں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ بھولے اصل سے جو دودھ لاہور اتا ہے حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے موقع پر اسے بند کر دیا جاتا ہے یا محدود کر دیا جاتا ہے اور وہ سارا دودھ حضرت داتا گنج بخش کے مزار اقدس پر دودھ کی سبیلوں میں مفت فراہم کیا جاتا ہے
تو یہ ہے بھوے اصل سے میری جڑے رہنے کی یہ کہانی ہے جب بھی لاہور یاد اتا ہے تو ” بھوےاصل” کو میں کبھی نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کا اسٹیشن جو اج کل تیز رفتاری کے ساتھ گزر جاتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں