چترال کی تاریخ میں اخونزادگان کا ذکر علم، دین اور سماجی رہنمائی کے حوالے سے ملتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اخونزادہ کسی ایک متحد قبیلے کا نام نہیں بلکہ مختلف علمی و مذہبی خانوادوں کی نسبت دکھائی دیتی ہے۔ چترال کے مختلف علاقوں میں آباد ان خاندانوں کے بارے میں الگ الگ روایات ملتی ہیں؛ کسی کے بزرگ دیر سے آئے، کسی کا تعلق بدخشان سے بتایا جاتا ہے، کسی کی نسبت بخارا سے ملتی ہے اور کسی خاندان کے بزرگ جالندھر، کنڑ یا وسطی ایشیا سے چترال پہنچے۔ یہی تنوع اخونزادگان کی تاریخ کو دلچسپ بناتا ہے۔
لفظ اخونزادہ کا تعلق اخوند، یعنی دینی عالم، سے ہے۔ چترال کے قدیم معاشرے میں عالمِ دِین کی حیثیت محض مذہبی پیشوا کی نہیں تھی بلکہ وہ استاد، قاضی، مدرس اور معاشرتی معاملات میں معتبر شخصیت بھی ہوتا تھا۔ اِسی علمی کردار کے باعث اخونزادہ کی نسبت بعض خاندانوں کیلئے مستقل شناخت بن گئی۔ اِس لیے چترال کے اخونزادگان کو ایک ہی جد کی اولاد قرار دینے کے بجائے مختلف علمی خانوادوں کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مقامی شجروں اور روایات میں بھی یہی تنوع نمایاں ہے۔
مستجپاندہ کے اخونزادگان کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے بزرگ تقریباً سات پشت پہلے دیر سے چترال آئے۔ ان خاندانوں کے ابتدائی بزرگوں کے طور پر مستجاب، جگاوات، اسماعیل اور نورالہادی کے نام بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ گولدور کے اخونزادگان کی نسبت بدخشان سے آنیوالے بابا آدم سے کی جاتی ہے، جن کے بارے میں روایت ہے کہ تقریباً تین سو سال پہلے اشاعتِ اسلام کیلئے چترال آئے۔ اسی خاندان سے اویر کے قاضی منصور اور گولدور کے خاندانِ ائمہ کو بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ گولدور کا یہ خانوادہ مذہبی خدمت کے حوالے سے نمایاں رہا۔
ژوغور کے اخونزادگان کی روایت بھی وسطی ایشیا تک جاتی ہے۔ مقامی تاریخ کے مطابق اس خاندان کے بزرگ بابا آدم بخارا سے چترال آئے اور یہاں سکونت اختیار کی۔ اس خاندان کے افراد ژوغور، گہریت اور کیسو میں آباد ہوئے۔ اسی خانوادے سے سید زین العابدین کا ذکر ملتا ہے، جو شجاع الملک کے زمانے میں قاضی القضاء اور خطیب رہے۔ بعد میں مولانا محمد یوسف، جو دیوبند کے فاضل تھے، چترال کی علمی زندگی سے وابستہ ہوئے۔ یوں ژوغور کے اخونزادگان کی روایت میں مذہبی علم، قضا اور تدریس کے کئی نمایاں نام سامنے آتے ہیں۔
بروز کی مقامی تاریخ اس سلسلے میں خاصی اہم ہے، کیونکہ یہاں اخونزادگان کے کئی خاندان آباد ہوئے۔ دومون کے اخونزادگان کے جدِ امجد علامہ مرزا رحیم بیگ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں وسطی ایشیا سے چترال آئے اور قاضی القضاء مقرر ہوئے۔ دُوسری طرف سین کوڑوم کے اخونزادگان کے جدِ امجد پاسدان محمد بن محمود کا تعلق افغانستان کے کنڑ سے بتایا جاتا ہے۔ وہ تبلیغ کیلئے دروش، جنجرت اور خیرآباد سے ہوتے ہوئے بروز پہنچے اور وہیں آباد ہوئے۔
بروز ہی میں اخونزادہ ملا عباس اور اخونزادہ ملا کمال شاہ کا خاندان بھی قابل ذکر ہے۔ روایت کے مطابق دونوں بھائی کٹور ثانی کے زمانے میں جالندھر سے چترال آئے۔ ملا عباس بروز میں آباد ہوئے، جبکہ ملا کمال شاہ کو کجو میں زمین دی گئی۔ بعد میں ملا عباس کی اولاد بروز میں آباد رہی۔ یہ روایت اِس لیے اہم ہے کہ اس میں محض کسی خاندان کی ہجرت نہیں بلکہ دو بھائیوں کی آمد، الگ الگ آبادکاری اور پھر انکی اولاد کے مقامی معاشرے میں شامل ہونیکی تفصیل ملتی ہے۔
ایون کے اخونزادگان کی روایت میں ملا رحیم قلی اخوند کا نام نمایاں ہے۔ اُن کی اولاد میں حافظ محمد کرار، مولانا محمد عاقل، اخونزادہ شیریزدان اور اخونزادہ محمد فاعل جیسے اہلِ علم کا ذکر ملتا ہے۔ محمد فاعل کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ریاستِ چترال میں قاضی القضاء کے منصب پر فائز رہے۔ تھوڑیاندہ کے اخونزادگان کو نوشہرہ کے مذہبی ماحول اور شیخ رحمکار کاکا صاحب سے منسوب کرنیکی روایت بھی موجود ہے۔
تورکھو کے اخونزادگان کا ذکر بھی چترال کی مقامی تاریخ میں آتا ہے، جبکہ ریری کے خاندان کے بارے میں روایت ہے کہ اُن کے بزرگ رئیس دور میں کابل سے چترال آئے۔ ان مختلف سلسلوں کو سامنے رکھا جائے تو چترال کی علمی تاریخ کا ایک وسیع نقشہ بنتا ہے: دیر سے آنیوالے خانوادے، بدخشان اور بخارا سے آنیوالے علما، کنڑ اور کابل سے پہنچنے والے مبلغین، جالندھر سے آنیوالے اہلِ علم اور نوشہرہ کے مذہبی مراکز سے جڑے خاندان۔ مختلف زمانوں میں آنیوالے ان خانوادوں نے چترال کی دینی اور علمی زندگی میں اپنا حصہ ڈالا۔
چترال کے اخونزادگان کی تاریخ مختلف راستوں سے آنیوالے علم کے ایک طویل سفر کی تاریخ ہے۔ مستجپاندہ کے دیر سے آنیوالے خاندان سے گولدور کے بدخشی بابا آدم، ژوغور کے بخارائی سلسلے، بروز کے وسط ایشیائی، کنڑی اور جالندھری خانوادوں، ایون کے اہلِ علم اور تھوڑیاندہ کے کاکاخیل نسبت تک ایک بات نمایاں ہوتی ہے کہ چترال کی تہذیبی تشکیل میں اہلِ علم اور مذہبی خانوادوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ اخونزادگان کی اصل اہمیت شاید کسی ایک نسب کے دعوے میں نہیں بلکہ اس علمی ورثے میں ہے، جو مختلف خاندانوں سے گزر کر آج بھی چترال کی اجتماعی یادداشت میں زندہ ہے۔




