تحریک انصاف کا “ بظاہر کریا کرم “” خود انہی کے ہاتھوں ہوگیا
پچھلے کئی مضامین سے میں اس طرف توجہ دلا رہا تھا تحریک انصاف کو اپنی طاقت کا بالکل اندازہ نہیں ہے وہ بہت زیادہ اوور اسٹیمیٹ کر رہی ہے اپنی طاقت کو پنجاب میں اس کا ووٹ بینک اب وہ نہیں رہا خیبر پختون خواہ میں بھی اب صرف کرائے کے کارکن اور سرکاری ملازمین جو اداروں کے تحت کام کرتے ہیں وہی ان کے ساتھ رہ گئے ہیں لیکن پتہ نہیں جیل میں عمران خان کو کیا پٹیاں پڑھائی جاتی ہیں کہ پورا پاکستان تمہارے ساتھ ہے حالانکہ پاکستان تو کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا خیر اسی بنا پر یہ بیچارے کے پی کے میں ایک بڑا گیم کھیل گئے وہاں سے 40 لاکھ کا مجمع لے کے نکلنا تھا ان کا خیال تھا جیسے کراچی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اواز لاکھوں لوگ نکل اتے تھے ویسے ہی کے پی کے میں بھی ایسی کوئی کاروائی نظر ائے ۔
لیکن وہاں مہاجر قوم کی مظلومیت کا مسئلہ ہے الطاف حسین ان کا دل و جان سے رہنما ہے اور اس کے علاوہ کوئی متبادل ان کے پاس نہیں ہے کوئی راہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے 10 سال سے وہ الطاف حسین کی اپیل پر ہر الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں چاہے اس کے بدلے میں سیٹیں کوئی پنجابیوں کو بانٹ دے یا کوئی پٹھانوں کو بانٹ دے یا اس جیسا پچھلے انتخابات میں ایجنسیوں نے کافی زیادہ سیٹیں مہاجروں کے حوالے کر دی جو کہ ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے کام کرتے تھے
اب تحریک انصاف کے ساتھ وہی ہوا جو ہونا تھا
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232(1) (ایمرجنسی) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت گورنر راج نافذ کر کے سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔
سہیل آفریدی کی لانگ مارچ شروع ہوتے ہی یہ گزارش کی تھی کہ صاحب کا جانا ٹھہر گیا ہے،صرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی اسے کھیلنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، تاکہ آفریدی اینڈ کو اپنی مقبولیت کا اندازہ ہو جائے اور اطمینانِ حجت بھی تمام ہو۔
وفاقی کابینہ کو صوبائی وزارتِ داخلہ کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق سنگین رپورٹس موصول ہوئیں، جس کی بنیاد پر آرٹیکل 232 اور 234 کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آخری مذاکرات، جن میں نیازی سے ملاقات اور اس کے بہنوں کی رہائی تک کے لیے وفاقی حکومت تیار ہو گئی تھی، لیکن آفریدی نے عین موقع پر حتمی معاہدے کو اپنی نئی اور ناقابلِ قبول شرائط کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ ریاستی عہدہ سنبھالتے ہوئے ریاست کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے انکار کے بعد وہ قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر اپنے عہدے کے لیے نااہل ہو چکے تھے،
لیکن حکومت نے انہیں وقت دے کر مزید غلطیاں کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا، کہ اب خود اس جماعت کے اندر بھی کوئی اس کے دفاع کے لیے تیار نہیں۔
اگرچہ طلاق کی طرح ایمرجنسی یا گورنر راج جائز آئینی اقدامات میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن آئین ان اقدامات کے لیے جو وجوہات بیان کرتا ہے، آفریدی اس سے بھی دو قدم آگے نکل گئے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ سمیت ہر رکنِ اسمبلی حلف اٹھاتا ہے کہ وہ
پاکستان سے سچے دل سے وفاداری رکھے گا،
بطور رکنِ صوبائی اسمبلی اپنے فرائض ایمانداری سے، اپنی بساط بھر، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین، قانون اور اسمبلی کے قواعد کے مطابق، اور ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت، یکجہتی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کی خاطر انجام دے گا۔
آفریدی اور اس کے ساتھیوں نے اس حلف کے کون سے لفظ کی لاج رکھی ہے؟
روزانہ پولیس اور سیکیورٹی والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر آئین کا آرٹیکل 149 کہتا ہے کہ مخدوش حالات پر پالیسی ریاست دے گی، لیکن سہیل آفریدی کہتے ہیں پالیسی ہماری چلے گی۔
اب اس آئین شکنی کے بعد وہ بطور وزیرِ اعلیٰ یا رکنِ اسمبلی اس ریاست کے مراعات اور اختیارات کا مستحق ہے؟یہ آئین آپ کو صرف مراعات اور اختیارات نہیں دیتا بلکہ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔
حکومت نے اس کے باوجود بھی اطمینانِ حجت کے لیے مذاکرات کیے، درمیان میں ان کے نئے سرپرست فضل الرحمن کو لے آئے، بلکہ آخری فیصلہ کرنے سے پہلے کابینہ کا اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر کے پھر فضل الرحمن کے ذریعے بات کی،لیکن جو خود کشی کا ارادہ کر لیں، انہیں کون روک سکتا ہے؟
یہ تو پاشا سے لے کر فیض تک جرنیلوں کی مہربانی، ورنہ نیازی نہ سیاست دان تھا نہ تا قیامت بن سکتا ہے،
اس کے پیروکار ایک کلٹ ہیں اور رہیں گے۔
یہ اور ان کا لیڈر روزانہ بھڑکیں مارتے تھے کہ
عدم اعتماد لا کر دکھاؤ،
اپوزیشن نے لا کر دکھا دیا۔
پھر چیلنج دیا کہ خان کو گرفتار کر کے دکھاؤ، وہ بھی گرفتار ہو گیا۔
آفریدی روزانہ دھمکیاں دیتا رہا کہ کے پی میں ایمرجنسی لگا کر دکھاؤ، لوگ ترکی کو بھول جائیں۔
ا، وہ بھی لگ گئی، کوئی قیامت نہیں ٹوٹی،
بلکہ خیبر پختون خواہ میں عوام اپنی مقبول حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں، یومِ نجات منا رہے ہیں۔
لگتا ہے اب یہ چیلنج دیں گے کہ
ذرا خان کو لٹکا کر دکھاؤ۔۔۔۔
حکومت نے کافی سوچ بچار کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کو بیک وقت نافذ کر دیا۔
ایک تو گورنر راج چھ ماہ کے لیے ہوتا ہے، دوسرا وہ عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن مخدوش حالات میں اگر ایمرجنسی نافذ ہو تو ایسی صورتِ حال میں
آئین کے آرٹیکل 233 کے تحت کچھ بنیادی حقوق محدود یا معطل ہو سکتے ہیں،
جن میں نقل و حرکت کی آزادی، پرامن اجتماع کی آزادی، انجمن/سیاسی جماعت بنانے کی آزادی،
اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی وغیرہ جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔
اس طرح آرٹیکل 233(2) کے تحت صدارتی فرمان کے ذریعے مذکورہ مخصوص بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق بھی معطل کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی معطل کر کے اس کے اختیارات قومی اسمبلی کو تفویض کر دیے ہیں۔
ہم تو بار بار یہ گزارش کرتے آ رہے ہیں کہ مہربانوں نے اس پراجیکٹ کو رول بیک کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس دن نہ بیانیہ رہے گا نہ کپتان کی شہرت کام آئے گی۔
دو سال پہلے لکھا تھا کہ عمران نیازی سیاست کارٹون بن چکا ہے، بس مہربانوں نے اسے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بلیک کرنے کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے، پر اب پلوں کے نیچے بہت سارا پانی گزر چکا ہے۔
جو عمران نیازی نون اور پی پی کا چراغ گل کرنے کے لیے لائے گئے تھے، دونوں جماعتوں نے آج خان کا آخری دیا بھی انہی کے ہاتھوں بجھا دیا۔
مولانا فضل الرحمن نے ایک جارحانہ پریس کانفرنس ترکی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سسٹم کی تلپٹ سے سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہونے والا ہے وہ خواتین کی نشستیں بھی لے کے بیٹھے ہیں جو پی ٹی ائی کو بلے کے نشان کی وجہ سے نہیں مل سکی تھیں ۔ ایسے مسٹیبلشمنٹ کو ان سے بھی کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے کے پی کے میں تقریبا 14 سال سے پی ٹی ائی کی حکومت تھی لیکن اس نے کوئی کام کر کے نہیں دیا اس لیے وہاں کے عوام اب تبدیلی چاہتے تھے تو تبدیلی اگئی ھے ہ




