روشنیہ تحریک، پیر بابا، اخوند درویزہ اور مغلیہ سیاست تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

پختون تاریخ کی بعض شخصیات کے بارے میں آج بھی مذہبی، سیاسی اور تاریخی مباحث جاری ہیں۔ سید علی ترمذی المعروف پیر بابا، اخوند درویزہ بابا اور روشنیہ تحریک کے بانی بایزید انصاری اس بحث کی اہم شخصیات ہیں۔ بایزید انصاری حامیوں میں پیرِ روشن جبکہ مخالفین کی روایت میں پیرِ تاریک کے نام سے معروف ہوئے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پیر بابا اور اخوند درویزہ بابا کی جانب سے روشنیہ تحریک کی مخالفت محض مغلوں کی حمایت تھی یا اسکے پیچھے مذہبی، صوفیانہ اور فکری اختلافات بھی کارفرما تھے؟

سولہویں صدی کا پختون خطہ مذہبی مباحث، قبائلی سیاست اور مغل سلطنت کی توسیع کے باعث پیچیدہ حالات سے گزر رہا تھا۔ بایزید انصاری کی روشنیہ تحریک مذہبی اور سیاسی دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتی تھی۔ اُن کے بعض نظریات سے اُس دور کے علماء اور صوفیاء نے اختلاف کیا، جن میں پیر بابا اور اُن کے شاگرد اخوند درویزہ بابا نمایاں تھے۔ تاہم مذہبی تحریک سے اختلاف کو لازماً مغلوں کی حمایت قرار دینا درست نہیں۔ دونوں پہلو الگ سمجھنا ضروری ہے۔

اخوند درویزہ بابا کی علمی سرگرمیوں کو صرف بایزید انصاری کی مخالفت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اُنکی تصانیف میں دینی تعلیمات، معاشرتی رسوم اور مذہبی معاملات پر تنقیدی گفتگو ملتی ہے۔ اُنکا فکری مؤقف اپنے تصورِ دین اور اصلاح سے وابستہ تھا۔ اِس لیے اُنکے کردار کا جائزہ لیتے وقت اُنکی وسیع تر مذہبی تنقید کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ اگر اخوند درویزہ بابا کی مخالفت کا واحد مقصد مغل حکمرانوں کو فائدہ پہنچانا ہوتا تو اُنکی دیگر علمی سرگرمیوں کی وضاحت کیسے کی جاتی؟

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی عالم کی دیگر معاملات میں تنقید کرنا بذاتِ خود اُس کے تمام سیاسی محرکات کی نفی نہیں کرتا۔ تاہم اخوند درویزہ بابا کی مذہبی و فکری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اُن کی مخالفت کو محض مغلوں کی خوشنودی کا نتیجہ قرار دینا محتاط تاریخی رویہ نہیں۔ کسی شخصیت کو مغلوں کا حمایتی ثابت کرنے کیلئے صرف نظریاتی اختلاف یا سیاسی نتائج کافی نہیں ہوتے۔ اس کیلئے معتبر شواہد ضروری ہیں، جو مذہبی مؤقف اور سیاسی وابستگی میں فرق واضح کر سکیں۔

پیر بابا کے معاملے میں بھی یہی اُصول اختیار کرنا چاہیے۔ اُن کے خاندانی پس منظر اور مغلوں سے منسوب تعلقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لازماً مغل سلطنت کے سیاسی حمایتی تھے۔ بایزید انصاری سے اُن کی مخالفت کے مذہبی اسباب کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔ کسی صوفی بزرگ کے عقائد سے اختلاف کو سیاسی سازش قرار دینا اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب اسکے حق میں واضح شواہد موجود ہوں۔ تاریخی رائے مفروضوں کے بجائے معلوم افکار اور عملی کردار پر قائم ہونی چاہیے۔

اس بحث کا اہم پہلو یہ ہے کہ کسی اقدام سے مغل سلطنت کو فائدہ پہنچنا اور اسکا مقصد مغلوں کی حمایت کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ روشنیہ تحریک کی مخالفت کے سیاسی اثرات مغل اقتدار کے حق میں گئے ہوں، یہ امکان موجود ہے۔ لیکن اس سے خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ مخالف مذہبی رہنماء مغلوں کے باقاعدہ سیاسی معاون تھے۔ اسی طرح اُنکے کردار پر سوال اُٹھانا اُنکی مذہبی خدمات کی نفی بھی نہیں۔ تاریخ کا منصفانہ مطالعہ نتائج، محرکات اور شواہد کو الگ الگ دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

میرے نزدیک پیر بابا اور اخوند درویزہ بابا کے بارے میں متوازن مؤقف یہی ہے کہ اُنہیں بلا دلیل مغلوں کا حمایتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اخوند درویزہ بابا کی وسیع مذہبی تنقید بتاتی ہے کہ اُن کی فکری سرگرمیوں کو صرف روشنیہ تحریک کی مخالفت سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم اُن کے تمام محرکات کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنا بھی مناسب نہیں، جب تک متعلقہ تاریخی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ نہ لیا جائے۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ جہاں ثبوت ناکافی ہوں، وہاں احتیاط برتی جائے۔

پیرِ روشن اور پیرِ تاریک کے القاب یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ میں ایک ہی شخصیت کو مختلف فکری حلقے مختلف انداز سے دیکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پیر بابا، اخوند درویزہ بابا اور بایزید انصاری کو اُن کے اپنے تاریخی کردار کے ساتھ سمجھا جائے، نہ کہ ایک دُوسرے کے مقابل کھڑا کرکے پہلے ہی فیصلے صادر کر دیئے جائیں۔ مذہبی اختلاف کو لازماً سیاسی دشمنی اور سیاسی فائدے کو حمایت کا قطعی ثبوت سمجھنا درست نہیں۔ تاریخ کا مقصد الزام تراشی نہیں، بلکہ ماضی کو دلیل، توازن اور دیانت سے سمجھنا ہے۔

پختون تاریخ کا یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ ماضی کے تنازعات کو موجودہ تعصبات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے تحقیق اور تحمل سے سمجھنا چاہیے۔ پیر بابا کی روحانی حیثیت، اخوند درویزہ بابا کی علمی کاوشیں اور بایزید انصاری کی روشنیہ تحریک، سب اپنے اپنے انداز میں اس عہد کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان شخصیات کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کیلئے مذہبی روایات، سیاسی حالات اور قابلِ اعتماد شواہد کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔ یہی طرزِ فکر تاریخی شخصیات کے احترام اور ماضی کے ساتھ انصاف ممکن بناتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں