لائل پور کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا تھا میں نے فیصل آباد
اچھی طرح تو نہیں دیکھا تھا اس لیے سوچا مانچسٹر دیکھ لیتا ہوں تاکہ پاکستان کے لائل پور یا فیصل آباد کی زیارت ہو جائے ۔
مانچسٹر قدیم انگلستان کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے جہاں پرانی کالونیل عمارات دیکھنے کو ملتی ہیں چھوٹے روڈ ہیں لیکن رش اور شور لندن جتنا نہیں ہے ۔
لگ بھگ ٹوٹتی پھوٹتی بلڈنگ ہے لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹیں گی کیونکہ ان کو اسی حالت میں محفوظ کر لیا گیا ہے وہاں دیکھ کر پرانا دور یاد اتا ہے اور کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر کھارا در سے اوپر کی طرف اتے ہوئے لائٹ ہاؤس تک علاقہ سامنے ا جاتا ہے اگر اس کو اس کی اصل حالت میں محفوظ کیا جاتا تو وہ ضرور کراچی کا مانچسٹر دکھتا
یھاں بھی لوگ باقی انگلینڈ کی طرح کھڑی انگریزی زبان بولتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے وہ ہر وقت غصے میں رہتے ہیں عام طور پر لوگوں کا رویہ نارتھ امریکہ کی طرح ہمدردانہ مشفقانہ اور محبت بھرا نہیں ہوتا ٹیکسی ڈرائیور بھلے بہت دیسی ہوں یا غیر دیسی بہت زیادہ تعاون نہیں کرتے مطلب یہاں پر میں نے جتنی اوپر یا بولٹ ڈرائیو حاصل کی ان سب کو میں نے ایوریج ساڑھے تین سٹار سے زیادہ نہیں دے سکا ۔
ہاں یہ ایک خوبصورت شہر ضرور ہے لیکن یہاں پر بہت زیادہ وقت بتانا ضروری نہیں ہے رات کی لائف بھی سستی لیکن لیکن کم ہے ہاں مہنگائی مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ لندن کے مقابلے میں ضروری ہے کم ہوگی اب لندن جاتا ہوں تو پھر بتاتا ہوں کہ وہاں کیا حال ہے
ڈبلن سے فرار
”
ڈبلن شہر کتنا بڑا ہے یہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ایئرپورٹ بہت لمبا ہے یعنی اگر اپ کو ریان ایئر کی فلائٹ ہو تو وہ ایئرپورٹ کے بالکل اخری سرے پر کسی گیٹ سے روانہ ہوتی ہے اور اس کے لیے کم سے کم اپ کو ڈیڑھ کلومیٹر ایئرپورٹ کے اندر چلنا پڑتا ہے
صرف ادھے گھنٹے کی فلائٹ کے لیے اگر اپ ماجسٹر جا رہے ہیں تو اپ کو تقریبا دو گھنٹے ایئرپورٹ پہ گزارنے پڑتے ہیں اور پھر ریان ہے جو کہ ایک سستی لیکن دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش ایئر لائن تو ہے لیکن بہت ہی منظم اور بہت طریقے سے کام کرنے والی ہے وہ مسافروں کو جمع کر کے ایک ریوڑ کی شکل میں جہاں تک لے جاتی ہے اور پھر ماجسٹر پہ بھی ریوڑ کی شکل میں لائی اور ایئرپورٹ کے خفیہ راستے سے اس نے ہمیں اچانک باہر نکال دیا نہ امیگریشن نہ کوئی سوال جواب
خیر لینڈ جانے اور انگلینڈ جانے
بآدلوں کے ہٹنے کے بعد جو مانچسٹر کے اس پاس کی سرزمین نظر ائی بہت ہی خوبصورت تھی
مسجد مندر ۔۔۔ آمنے سامنے
ایسٹ ہیم ۔۔۔۔ لندن
لندن دنیا کا سحر انگیز شہر اسی لیے ہے کہ یہاں پر وہ کچھ دیکھنے میں نظر اتا ہے جو عام دنیا میں نظر نہیں اتا
جو لوگ ساری دنیا میں ایک دوسرے سے برسر بیکار ہیں وہ یہاں ایک ہی تھالی میں کھاتے نظر اتے ہیں
ساؤتھ ہال اب دیسی پاڑے میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ لندن میں ساوتھ ہال سے بڑے بڑے بہت سارے ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پاکستانی اور ہندوستانیوں کی اکثریت ہے شاندار کھانے بزم شمار دکانیں بے مثال اسائش کی چیزیں اور وہ ثقافت ملتی ہے جس میں مسجد اور مندر آمنے سامنے ہوتے ہیں
ایسٹ ہیم گندم کے علاقے میں شاندار مسجد کے سامنے ایک عظیم مندر بھی کھڑا ہے اور دونوں طرف لوگوں کا ہجوم ہے
منزل کے برابر میں ایک مسلمان تاجر کی جانب سے پھل اور فروٹ تقسیم کیے جا رہے ہیں اور لائن میں لگے لوگ ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی ۔
اور اس علاقے سے چند کلومیٹر دور گرین سٹریٹ بھی ہے جہاں پر بنگالی اور پاکستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کی وہ دکانیں ہیں جہاں شادی بیاہ کا بری مہندی اور نکاح کا سامان دیکھا جا سکتا ہے اور یہاں وہ لوگ اتے ہیں جنہیں پاکستان نے ہندوستان یا بنگلہ دیش سے کوئی سروکار نہیں لیکن ان کی شادیاں اسی طرح ہوتی ہیں جس طرح ان کے وطن میں
قیام چونکہ الفریڈ کے علاقے میں ہے یہاں پر ریلوے اسٹیشن کے دونوں طرف دیسی بہار ہے لیکن اگر سیدھے ہاتھ کی طرف دیکھیں تو یہاں ہندوستانی سٹور زیادہ ہے لیکن الٹے ہاتھ کی طرف پاکستانی سٹورز کی ایک لمبی قطار ہے جس میں جدید طریقے سے ریسٹورنٹ ہمارے ملبوسات کی چین اور ایک شاندار مسجد بھی واقع ہے یہاں بھی مسجد کے قریب ہی ایک مندر کی ٹرسٹ کا دفتر بھی دیکھا جا سکتا ہے
یہاں پر لوگ ساڑیاں لنگیاں شلوار سوٹ پہلے ہر طرف بکھر نظر اتے ہیں چائے کی بے شمار دکانیں ہیں جس میں چائے شائے چاشا اپنی چائے میری چائے تیری چائے سب شامل ہے چائے کے ساتھ ہندوستانی سموسہ پاکستانی سموسے بھی دستیاب ہیں اور لوگوں کا جم غفیر ٹم ہارٹن کینیڈا کی طرح یہاں ہر وقت بیٹھا نظر اتا ہے اور اٹھ کر نہیں دیتا




