یومِ شہادتِ حضرت علیؓ پر ملک کے مختلف شہروں میں جلوس

یومِ شہادت حضرت علیؓ پر ملک کے مختلف شہروں میں جلوس نکالے جا رہے ہیں۔

کراچی کا مرکزی جلوس 

کراچی میں نشتر پارک میں یومِ علیؑ کی مرکزی مجلس کے بعد مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستے پر گامزن ہے، جلوس کے شرکاء نے امام بارگاہ علی رضا کے باہر مولانا اصغر حسین شہیدی کی اقتداء میں نمازِ ظہرین ادا کی۔

یہ مرکزی جلوس کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پزیر ہو گا۔

جلوس کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والی سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے اور جلوس کی گزرگاہ کے اطراف پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق نمائش سے ٹاور آنے، جانے والے مین ایم اے جناح روڈ کے دونوں روڈ ٹریفک کے لیے بند ہیں، صدر دواخانہ، ایمپریس مارکیٹ سے ریگل چوک تک تمام کٹس اور روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

ترجمان پولیس نے بتایا ہے کہ یومِ علیؓ کے جلوس کی سخت سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جلوس کے راستے پر آنے والی سڑکیں اور گلیاں بند کر دی گئی ہیں، صدر کی مختلف سڑکوں اور گلیوں کو کنٹینر رکھ کر بند کر دیا گیا ہے۔

ترجمان پولیس نے بتایا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے جلوس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی، بلند عمارتوں پر اسنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں، کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئیک رسپانس ٹیمیں الرٹ ہیں اور اہم اسپتالوں میں بھی پولیس نفری تعینات ہے۔

ترجمان پولیس نے شہریوں سے مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری مددگار 15 پر دینے کی درخواست بھی کی  ہے۔

حضرت علیؑ کی تعلیمات عدل، شجاعت اور انسانیت کی اعلیٰ مثال ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ علیؑ پر اپنے بیان میں کہا کہ یومِ علیؑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق اور سچ کی راہ پر ڈٹے رہنا ہی اصل کامیابی ہے، آج کے دن ہمیں حضرت علیؑ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانےکاعہد کرنا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ امام علیؑ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا عظیم اور دردناک باب ہے۔

وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ بھر میں یوم علیؓ کے جلوسوں اور مجالس کے لیے سخت سیکیورٹی پلان نافذ ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں کشیدہ اورجنگی صورتِ حال کے پیشِ نظر سیکیورٹی مزید مؤثر بنائی ہے۔

آخری عشرے میں تمام سپروائزری افسران فیلڈ میں نظر آئیں، وزیر داخلہ سندھ

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار کا کہنا ہے کہ یومِ شہادتِ حضرت علیؓ کے موقع پر صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ طاق راتوں، شبِ قدر کی مناسبت سے بھی مساجد اور امام بارگاہوں پر سیکیورٹی کو غیر معمولی بنایا جائے، محافلِ شبینہ، تکمیلِ قرآن، ذکر و اذکار پر خصوصی سیکیورٹی فوکس رکھا جائے۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس پٹرولنگ میں حصار حکمتِ عملی کو ترجیح دی جائے، پکٹنگ کے ساتھ ساتھ رینڈم اسنیپ چیکنگ اور نگرانی کے عمل کو ہر سطح پر مؤثر بنایا جائے، آخری عشرے میں تمام سپروائزری افسران فیلڈ میں نظر آئیں۔

اُنہوں نے کہا کہ بازار، مارکیٹس، شاپنگ سینٹرز پر پولیس ڈپلائمنٹ کو انتہائی چوکنا اور متحرک رکھا جائے، پولیسنگ کے جملہ امور میں قانون پسند شہریوں کا خیال رکھا جائے، رات گئے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے پولیس گشت بڑھایا جائے۔

وزیرِ داخلہ سندھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھانہ انٹیلیجینس اپنا کام انتہائی ذمے دارانہ طریقے سے انجام دے۔

لاہور کا مرکزی جلوس

لاہور میں یومِ علیؓ کا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں ہے، مرکزی جلوس صبح مبارک حویلی موچی دروازے سے برآمد ہوا تھا اور نمازِ مغرب سے پہلے کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پزیر ہو گا۔

جلوس کے روٹ اور ملحقہ شاہراہوں پر کینٹینرز لگا کر عام ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا۔

سرکلر روڈ، اکبری گیٹ، لوہاری گیٹ، موچی گیٹ کی جانب عام ٹریفک کا داخلہ بند ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے براہِ راست مانیٹرنگ جاری ہے۔

پولیس افسران جلوس و مجالس کی تکمیل تک نگرانی جاری رکھیں، وزیرِاعلیٰ پنجاب

وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یومِ علیؑ پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

اُنہوں نے تمام جلوس و مجالس کے حفاظتی اقدامات کی مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ پولیس افسران جلوس و مجالس کی تکمیل تک نگرانی جاری رکھیں۔

اُنہوں نے مساجد میں معتکفین کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی اقدامات  کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملتان کا مرکزی جلوس 

ملتان میں یومِ علیؓ کا مرکزی جلوس چاہ بوہڑ والا سے برآمد ہو کر مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ لال کرتی پر اختتام پزیر ہو گا۔

شہر بھر میں یومِ علیؓ پر آج 12 ماتمی جلوس اور 15 مجالس منعقد کی جائیں گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، 2 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں اور جلوس کی گزرگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

علاوہ ازیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی یومِ علیؓ پر 8 جلوس اور 13 مجالس منعقد کی جائیں گی۔

ڈی پی او نے بتایا ہے کہ اس موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے ہیں، جلوس و مجالس کی سیکیورٹی کے لیے 670 پولیس اہلکار اور 160 رضاکار تعینات کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ کا مرکزی جلوس 

کوئٹہ میں یومِ علیؑ کا جلوس آج رات علمدار روڈ سے شروع ہو کر واپس وہیں پر ختم ہو گا۔

پولیس حکام کے مطابق جلوس کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ سینٹرل پولیس آفس میں قائم کنٹرول روم میں جلوس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق جلوس کے روٹ پر دکانیں اور کاروباری مراکز سیل کر دیے گئے ہیں، جلوس کے روٹ کی طرف جانے والے راستوں کو بھی سیل کیا گیا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *