اخوند سالاک اور مفتوحہ علاقوں کی تقسیم تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اُنیسویں صدی کے آخری حصے میں برطانوی ہندوستان کے افسروں نے شمال مغربی سرحدی علاقوں کے بارے میں کئی اہم رپورٹیں مرتب کیں۔ ان میں سروے آف انڈیا سے وابستہ افسر اور جغرافیہ دان ڈبلیو۔ ڈبلیو۔ میک نائر کی 1885ء میں شائع ہونیوالی رپورٹ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ رپورٹ 1883ء میں مشرقی افغانستان اور کافرستان کے سفر و مشاہدات پر مبنی تھی۔ اسی میں اخوند سالاک کا ذکر یوسف زئیوں کی علاقائی پیشقدمی اور مفتوحہ علاقوں کی تقسیم سے متعلق ایک روایت میں ملتا ہے۔

روایت کے مطابق سوات پر یوسفزئیوں کے غلبے کے بعد لَڑم درے کے شمال میں آباد غیر مسلم قبائل سے کشیدگی بڑھ گئی۔ ان قبائل کے حملوں کے بعد یوسف زئیوں نے مذہبی جنگ کا اعلان کیا، جس میں منڈنز، ترکلانی، مہمند اور اتمان خیل بھی شریک ہوئے۔ اس مہم میں یوسف زئیوں کا کردار بنیادی دکھائی دیتا ہے۔ کامیابی کے بعد غیر مسلم قبائل دریائے کنڑ کے پار چلے گئے اور فتح کیے گئے علاقوں کی تقسیم کا مرحلہ شروع ہوا۔

مفتوحہ علاقوں کی تقسیم پر یوسف زئیوں، منڈنز اور ملی زئیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ نئی زمینوں کی ملکیت اور حدود کا تعین محض فوری مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات آئندہ قبائلی تعلقات پر بھی پڑ سکتے تھے۔ متعلقہ بیان کے مطابق ان اختلافات کو اخوند سالاک نے طے کیا اور فتح کیے گئے علاقوں کی شمالی حدود ملی زئیوں کے لیے مقرر کیں۔ اس روایت میں وہ ایک بااثر ثالث کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

اخوند سالاک کا کردار صرف حدود کے تعین تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ روایت کے مطابق یوسف زئیوں اور منڈنز کو یہ ذمہ داری بھی سمجھائی گئی کہ وہ نئے علاقوں میں آباد ہونیوالے اپنے لوگوں کی مدد جاری رکھیں، یہاں تک کہ وہ اپنے دفاع اور انتظام میں مضبوط ہو جائیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح کے بعد پیدا ہونیوالے حالات کو منظم کرنے میں اخوند سالاک کی رائے کو اہمیت حاصل تھی۔ اُن کا کردار قبائلی ثالثی تک وسیع دکھائی دیتا ہے۔

رپورٹ کے ایک دُوسرے حصے میں تالاش وادی کے حالات بیان کرتے ہوئے تسگیرہ یا تسگِرّہ (Tasgirra) نامی ایک تاریخی روایت کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ اس کے مطابق یہ تاریخ اخوند سالاک کے بیٹوں سے منسوب تھی۔ یہ حوالہ اِس لیے اہم ہے کہ اس سے اخوند سالاک کے خاندان کا تاریخی حافظے کے ساتھ تعلق سامنے آتا ہے۔ یوں اُن کا نام ایک مذہبی شخصیت کے ساتھ ساتھ قبائلی تاریخ کی روایت سے بھی وابستہ دکھائی دیتا ہے۔

تاہم اس شہادت کو تاریخی احتیاط کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ متعلقہ رپورٹ 1885ء میں شائع ہوئی، جبکہ اس میں بیان کردہ سفر 1883ء میں ہوا تھا۔ اِس لیے اخوند سالاک سے متعلق یہ بیان اُن کے زمانے کا عینی یا ہم عصر ماخذ نہیں بلکہ ایک مقامی روایت ہے جسے اُنیسویں صدی میں قلم بند کیا گیا۔ اسکی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس زمانے تک مقامی تاریخی حافظے میں اخوند سالاک کا مقام کس صورت میں محفوظ تھا۔

اس روایت میں اخوند سالاک یوسف زئی تاریخ کے ایک اہم مرحلے کے ساتھ جڑے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔ اُن کا کردار مذہبی اثر و رسوخ سے آگے بڑھ کر زمین، حدود، آباد کاری اور قبائلی تعلقات تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ مفتوحہ علاقوں کی تقسیم جیسے حساس معاملے میں کسی بااعتماد ثالث کی ضرورت تھی اور دستیاب بیان یہ کردار اخوند سالاک سے منسوب کرتا ہے۔ اسے قطعی حقیقت کے بجائے ان کے اثر و رسوخ کا ایک تاریخی اشارہ سمجھنا زیادہ محتاط ہوگا۔

اخوند سالاک کے بیٹوں سے منسوب تسگیرہ کا حوالہ اس روایت کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام صرف ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک خاندانی تاریخی حافظے کے ساتھ بھی محفوظ رہا۔ اگرچہ اس روایت کی تفصیلات کی دُوسرے ماخذوں سے مزید جانچ ضروری ہے، لیکن یہ شہادت ضرور دکھاتی ہے کہ اُنیسویں صدی میں اخوند سالاک کو یوسف زئی تاریخ کے ایک اہم مرحلے سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ حوالہ اِس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس میں مذہبی قیادت اور قبائلی نظم و نسق کے درمیان ایک تعلق دکھائی دیتا ہے۔ زمین کی تقسیم، حدود کا تعین اور نئے آبادکاروں کے باہمی تعاون جیسے معاملات میں اخوند سالاک کی ثالثی کا ذکر اُن کے سماجی اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاہم اس روایت کی تمام تفصیلات کو حتمی تاریخی حقیقت قرار دینے کے بجائے دُوسرے دستیاب شواہد کے ساتھ پرکھنا ضروری ہے۔

1885ء کی یہ شہادت اخوند سالاک کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں دیتی، لیکن ایک اہم تاریخی دروازہ ضرور کھولتی ہے۔ اس میں وہ مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والے شخص، قبائلی ثالث اور مفتوحہ علاقوں کی تقسیم و حدود کے تعین سے متعلق شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ تاریخی روایت اُنیسویں صدی کے مقامی حافظے کی ایک اہم جھلک ہے، جسے دُوسرے ماخذوں کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اخوند سالاک کے کردار کی زیادہ واضح تصویر سامنے آسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں