مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف یورپ کے کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑ پیں ہوئیں، 11 افراد گرفتار جبکہ 96 زیر حراست ہیں، دیگر کئی شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا۔
اسپین کے دارالحکومت بارسلونامیں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔
برسلز میں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا گیا۔
علاوہ ازیں البانیہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔فرانس میں مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے خلاف مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق فرانس بھر میں سیکیورٹی سخت کر کے مختلف علاقوں میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے۔
شہر لیون میں پابندی کے باوجود احتجاجی مظاہرہ کرنے والے تقریباً 150 افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے پُرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے باعث مختلف شہروں میں احتجاج پر پابندیاں عائد ہیں، جبکہ یلو ویسٹس تحریک، مزدور تنظیموں اور طلبہ کی جانب سے ملک بھر میں 700 سے زائد مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق مارسیے میں پابندی واپس لے کر مزدور تنظیموں کو ریلی کی اجازت دے دی گئی، جبکہ اسٹراسبرگ میں بھی مظاہرے ہوں گے، تاہم نینسی، میتز، بیزانسوں، بیلفور، روآن، لی آوور، ٹولون اور لیموژ سمیت کئی شہروں میں پابندیاں برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پرتششد مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے، 3 ہزار سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا تھا جبکہ لوٹ مار بھی کی گئی تھی۔




