ہزارہ کی تاریخ قلعوں، سلاطین اور جنگوں تک محدود نہیں، بلکہ صوفیا، شعرا اور اہلِ دِل بھی اس تاریخ کا روشن حصہ ہیں۔ بفہ کے قریب گلی باغ اسی ورثے کا ایک اہم مرکز ہے۔ کبھی پکھلی کے ترک حکمرانوں کا دارالحکومت رہنے والے اس علاقے میں قلعہ فیروزہ، شاہی مقابر اور قدیم عمارات کے آثار موجود ہیں۔ انہی آثار میں دیوان راجہ بابا کا مزار بھی شامل ہے، جو آج تک عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
1907ء کے سرکاری ’’ہزارہ ڈسٹرکٹ گزٹیئر‘‘ میں گلی باغ کی ’’زیارت دیوان راجہ بابا‘‘ کا باقاعدہ ذکر ملتا ہے۔ اس ماخذ کے مطابق عیدین کے مواقع پر لوگ یہاں جمع ہوتے اور نذرانے پیش کرتے تھے۔ یہ حوالہ اس بات کی اہم شہادت ہے کہ گزشتہ صدی کے آغاز سے پہلے بھی دیوان راجہ بابا کی زیارت پکھلی میں معروف تھی۔ یوں اُن کا مزار محض موجودہ دور کی روایت نہیں بلکہ ایک قدیم مذہبی اور سماجی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔
آثارِ قدیمہ کے محققین دیوان راجہ بابا کا نام دیوان راجہ فقیر محمد لکھتے ہیں اور اُنہیں سلطان محمود خرد کا معاصر قرار دیتے ہیں۔ سلطان محمود خرد پکھلی کے ترک حکمرانوں میں آخری فرمانروا تھا اور گلی باغ اس کے اقتدار کا اہم مرکز تھا۔ یہاں قلعہ، شاہی عمارات اور سلاطین کے مقابر موجود تھے۔ اسی تاریخی ماحول میں دیوان راجہ بابا کی موجودگی اُنہیں اس عہد کی مذہبی اور سماجی زندگی کی اہم شخصیت بناتی ہے۔
دیوان راجہ بابا کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو اُنکی فارسی شاعری ہے۔ مقامی محقق محمد خواص خان نے 1981ء میں ’’دیوان راجہ بابا: احوال و آثار مع کلام‘‘ کے عنوان سے مستقل کتاب شائع کی، جس میں اُن کے حالات، آثار اور فارسی کلام شامل ہے۔ اس تصنیف سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی علمی روایت انہیں صرف صاحبِ مزار بزرگ نہیں بلکہ قادرالکلام صوفی شاعر بھی سمجھتی ہے۔ یوں اُن کی شخصیت پکھلی کی روحانی تاریخ کے ساتھ فارسی ادب سے بھی جڑ جاتی ہے۔
دیوان راجہ بابا کے نسب کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض خاندانی شجروں میں اُنہیں سید راجہ دیوان، شاہ راجہ دیوان یا محمد شاہ راجہ دیوان کہا گیا ہے اور ساداتِ مشہدی یا کاظمی سے نسبت دی گئی ہے۔ بعض روایات اُن کا نسب حضرت بری امامؒ تک پہنچاتی ہیں۔ تاہم قدیم سرکاری اور آثارِ قدیمہ کے ماخذوں میں اس مکمل شجرۂ نسب کی آزادانہ تصدیق نہیں ملتی۔ اس لیے اسے خاندانی روایت کے طور پر بیان کرنا تاریخی احتیاط کا تقاضا ہے۔
ان کی شہادت کے بارے میں ’’ثقافتِ سرحد‘‘ میں ایک اہم روایت نقل ہوئی ہے۔ مصنف کے مطابق حضرت دیوانہ راجہ بابا ایک قادرالکلام صوفی شاعر اور بزرگ ہستی تھے جنہیں ترکوں کے آخری شہزادے اکبر خان نے شہید کرایا۔ روایت کے مطابق اکبر خان عیاش اور ظالم حکمران تھا، جبکہ دیوانہ بابا اسے تبلیغ کے ذریعے نازیبا اور اخلاق سوز حرکات سے روکنا چاہتے تھے۔ اُن کی اصلاحی کوشش شہزادے کی بدمستیوں میں رکاوٹ بنی اور اسی بنا پر انہیں شہید کرا دیا گیا۔
اس روایت کو قطعی تاریخی واقعہ قرار دینے سے پہلے ماخذی احتیاط ضروری ہے۔ 1907ء کا گزٹیئر اور جدید آثارِ قدیمہ کے مطالعات دیوان راجہ بابا کے مزار اور گلی باغ میں اُن کی موجودگی کی تائید کرتے ہیں، لیکن اکبر خان کے ہاتھوں اُن کی شہادت کی تفصیل ان ماخذوں میں نہیں ملتی۔ اِس لیے شہادت کے واقعے کو ’’ثقافتِ سرحد‘‘ کی منقول روایت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے۔ یہی اُصول نسب کے بارے میں بھی ملحوظ رہنا چاہیے، تاکہ روایت اور مستند تاریخی شہادت میں فرق برقرار رہے۔
دیوان راجہ بابا کا زمانہ پکھلی میں ترک اقتدار کے زوال کا زمانہ بھی تھا۔ 17ویں صدی کے اواخر میں سواتی قبائل کی پیشقدمی، مقامی سیاسی تبدیلیوں اور ترک حکمرانوں کی کمزوری نے خطے کا نقشہ بدل دیا۔ گلی باغ کی شاہی حیثیت ختم ہوئی، مگر وہاں کے مزارات اور مذہبی مراکز عوامی حافظے میں باقی رہے۔ دیوان راجہ بابا کا مزار بھی اسی تاریخی تبدیلی کا خاموش گواہ ہے، جہاں سلطنت ختم ہوئی مگر روحانی نسبت باقی رہی۔
گلی باغ کے آثار آج بھی پکھلی کے اُس دور کی یاد دلاتے ہیں جب ترک سلاطین، صوفیا اور فارسی ادب ایک ہی تہذیبی منظرنامے کا حصہ تھے۔ دیوان راجہ بابا کا مزار اسی منظرنامے کی ایک اہم کڑی ہے۔ 1907ء کا گزٹیئر، آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور محمد خواص خان کی تصنیف اُن کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے لاتی ہیں۔ اُن کے نسب، سیاسی کردار اور شہادت سے متعلق روایات مزید تحقیق کی متقاضی ہیں، تاہم مقامی تاریخ میں اُن کا مقام نمایاں ہے۔
سلطنتِ پکھلی کا اقتدار وقت کی گرد میں گم ہوگیا، قلعے ویران ہوئے اور شاہی دربار قصۂ ماضی بن گئے، مگر گلی باغ نے دیوان راجہ بابا کی یاد محفوظ رکھی۔ اُن کی شخصیت میں تصوف، فارسی شاعری، مقامی روایت اور پکھلی کی سیاسی تاریخ ایک دُوسرے سے جڑی دکھائی دیتی ہے۔ دیوان راجہ بابا کا مزار آج بھی اس عہد کی یادگار ہے اور پکھلی کی تہذیبی و روحانی تاریخ میں اُن کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔




