ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش پر زور دیا ہے۔
ایرانی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو عبوری ڈیل کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کر رہے تھے، امریکیوں نے سب برباد کیا۔
صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ڈیل کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کل ہی ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے سے متعلق سوال پر جواب میں کہا ہے کہ میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کا نہیں بتاؤں گا۔
پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایم او یو کے تحت امریکا سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ہفتے کی شام اسلام آباد کلب میں فورم فار انفارمیشن گروپ سیکریٹریز (ایف آئی جی ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ مباحثے میں اظہار خیال کیا۔
اس مباحثے کا عنوان ’امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ اور ابھرتے ہوئے علاقائی اتحاد: مزید تباہی یا سفارت کاری کی امید؟‘ تھا۔
ایرانی سفیر نے مباحثے کے دوران بتایا کہ ایران نے پاکستان کو بتادیا کہ وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ امریکا اپنی ناکہ بندی ختم کر دے۔
اُنہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارت کاری کو سبوتاژ اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعطل کو طول دے رہا ہے، مکّہ معاہدہ مسلم ممالک کے اتحاد کا ذریعہ ہوسکتا ہے تاہم اس کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اسکا جائزہ لیں گے۔
اسلام آباد میں سیمینار سے سیکریٹری خارجہ انعام الحق، جنرل (ر) خالد نعیم لودھی، شرف جہانگیر قاضی نے بھی خطاب کیا۔




